تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 108
اچھی ہوتی ہے لیکن وہی چیز دوسرے وقت میں ُبری ہو جاتی یا دوسرے شخص کے لئےبرُی ہو جاتی ہے۔اسی طرح ایک ہی چیز ایک وقت میں ُبری ہوتی یا ایک شخص کے لئے ُبری ہوتی ہے لیکن وہی چیز دوسرے وقت میں اچھی ہو جاتی یا دوسرے شخص کے لئے اچھی ہو جاتی ہے۔جن چیزوں کا اوپر ذکر کیا گیا ہے گو وہ عام طور پر بھی اچھی ہیں لیکن بنی اسرائیل کے حالات کے مطابق وہ اس وقت ان کے لئے خاص طور پر طیّب تھیں۔ان غذائوں کو چھوڑ کر دوسری غذائوں کے پیچھے پڑنے سے وہ غرض فوت ہوتی تھی جس کے لئے بنی اسرائیل کو جنگل میں رکھا گیا تھا۔بائبل میں سے اوپر گنتی باب ۱۱ آیت ۳۱ تا ۳۴ کا جو حوالہ دیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بٹیروں کا آنا بطور عذاب کے تھا کیونکہ ان کے کھانے سے بنی اسرائیل پر عذاب نازل ہوا۔قرآن کریم اس کے خلاف کہتا ہے۔قرآن کریم اسے احسان بتاتا اور اپنا انعام قرار دیتا ہے اور قرآن کریم کا بیان ہی صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ جنگل میں غذا مہیا کر دینا اور پھر اس کے کھانے پر عذاب نازل کرنا یہ تو ایک ظلم ہے۔اگر خدا تعالیٰ نے پہلے سے فرما دیا ہو تاکہ بٹیرے آئیں گے تم انہیں نہ کھانا تب بھی کچھ بات تھی اور اگر بنی اسرائیل میں بٹیرہ حرام ہوتا تب بھی کچھ بات تھی مگر وہاں تو سرے سے بٹیروں کی حرمت کا کوئی حکم ہی موجود نہیں۔پھر ایک حلال چیز اگر بنی اسرائیل کو مل گئی اور انہوں نے اسے کھانے کا ارادہ کیا (بائبل میں لکھا ہے کہ کھانے سے پہلے ہی ان پر عذاب آگیا) تو اس پر ناراضگی کیسی اور ناراضگی بھی ایسی کہ جنگل کا جنگل قبروں سے بھر گیا۔یہ تو ایک ظلم ہے اور خدا تعالیٰ ظالم نہیں۔خود بائبل کے بعض حصے بھی اس خیال کو ردّ کرتے ہیں چنانچہ خروج باب ۱۶ میں لکھا ہے۔’’ اور خداوند نے موسیٰ ؑ سے کہا میں نے بنی اسرائیل کا جھنجھلانا سنا۔اُنہیں کہہ کہ تم درمیان زوال اور غروب کے گوشت کھاؤ گے اور صبح کو روٹی سے سیر ہو گے اور تم جانوں گے کہ مَیں خداوند تمہارا خدا ہوں اور یوں ہوا کہ شام کو بٹیریں اوپر آئیں اور پڑاؤ کو چھپا لیا اور صبح کو لشکر کے آس پاس اَوس پڑی اور جب اَوس پڑ چکی تو کیا دیکھتے ہیں کہ بیابان میں ایک چھوٹی چھوٹی گول چیز ایسی سفید جیسے برف کا چھوٹا ٹکڑا زمین پر پڑی ہے۔‘‘(خروج باب ۱۶آیت ۱۱ تا ۱۴) اِس حوالہ سے پتہ لگتا ہے کہ بٹیرے خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق آئے اور خدا تعالیٰ نے قبل از وقت حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام سے کہا کہ تم ان بٹیروں کو کھانا اور انہیں انعام قرار دیا اور فرمایا کہ ان کے کھانے سے ’’تم جانو گے کہ مَیں خداوند تمہارا خدا ہوں۔‘‘ اور بٹیروں کے انعام کو مَنّکے انعام کے ساتھ اکٹھا بیان کیا اور مَنّکے انعام کو ساری بائبل میں انعام ہی قرار دیا گیا ہے کہیں اسے عذاب قرار نہیں دیا گیا۔پس گنتی باب۱۱ میں جو کچھ بیان ہوا ہے