تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 99

۴) تکالیف اور دُکھوں والی زندگی۔تلخ زندگی(۵) نیند(۶)رُوح کاجسم عنصری سے جدا ہونا۔ان مذکورہ معنوں میں سے یہاں صرف ۳،۴ چسپاں ہوتے ہیں۔یعنی قوتِ ادراک کا نہ ہونا اور زندگی کا تلخ ہو جانا۔اور آیت کا یہ مفہوم نہیں کہ وہ حقیقی طور پر مر جانے کے بعد زندہ کئے گئے تھے بلکہ آیت کا مطلب صرف یہ ہے کہ پہلی آیت میں جس عذاب کا ذکر کیاگیا تھا ہم نے اسے دُور کر کے پھر تم پر فضل کرنا شروع کر دیا اور پہلے عذاب کی وجہ سے جو موت کی سی حالت تم پر طاری ہو گئی تھی اس کو ایک نئی روحانی اور دنیوی زندگی سے بدل دیا۔بعض مسلمان مفسّرین نے اس کے معنے رُوح کے جسم سے خارج کرنے کے لئے ہیں لیکن حقیقی موت انہوں نے بھی مراد نہیں لی چنانچہ اس آیت کے متعلق قتادہ جو مشہور مفسّر قرآن ہیں ان کا یہ قول قرطبی نے نقل کیا ہے کہ مَاتُوْا وَذَھَبَتْ اَرْوَاحُھُمْ ثُمَّ رُدُّوْا لِاِسْتِیْفَاءِ اٰجَالِھِمْ (تفسیرقرطبی زیر آیت ھذا ) یعنی حضرت قتاوہ فرماتے ہیں وہ مر گئے اور ان کی رُوحیں نکل گئیں پھر ان کی رُوحیں واپس لائی گئیں تاکہ وہ اپنی مقدّر زندگی کے باقی دن اس دنیا میں پورے کریں۔ابن کثیر نے ربیع ابن انس سے بھی یہی تفسیر بیان کی ہے۔(تفسیرابن کثیرزیر آیت ھذا) ان الفاظ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت قتادہ کے نزدیک وہ حقیقی موت نہیں تھی۔کیونکہ حقیقی موت تو زندگی کے دن پورا کر لینے کے بعد آتی ہے۔زندگی کے دن پورے ہونے سے پہلے جو رُوح نکلے گی وہ تو عارضی طور پر ہی نکلے گی۔بعض نے کہا ہے کہ موت سے مراد حرکت کا بند ہونا ہے چنانچہ لکھا ہے وَ قِیْلَ مَاتُوْا مَوْتَ ھُمُوْدٍ یَعْتَبِرُبِہِ الْغَیْرُ ثُمَّ اُرْسِلُوْا (تفسیرقرطبی زیر آیت ھذا) یعنی وہ اس طرح مر گئے کہ حرکت وغیرہ بند ہو گئی اور ایسی حالت اُن کی ہو گئی کہ اس سے دوسرے لوگ عبرت حاصل کر سکیں۔پھر ان کو کھڑا کر دیا گیا اور بعضوں نے کہا ہے کہ عَلَّمْنَاکُمْ مِنْ بَعْدِ جَھْلِکُمْ (تفسیرقرطبی زیر آیت ھذا ) اس سے مراد یہ ہے کہ ہم نے تمہاری جہالت کے بعد تمہیں علم دیا۔یعنی تم نے یہ جو جاہلانہ سوال کیا تھا کہ خدا ہم کو سامنے نظر آ جائے اس سے تمہاری روحانیت مر گئی تھی اور تم پر خدا تعالیٰ کی ناراضگی نازل ہوئی تھی۔ہم نے پھر اس ناراضگی کو دُور کر دیا اور تم کو صحیح رُوحانی علم عطا فرمایا جس کی وجہ سے تم کو ایک نئی روحانی زندگی مل گئی۔یہ معنی ہمارے کئے ہوئے معنوں کے بہت قریب ہیں۔بچھڑے کی پرستش کرنے والوں پر جو عذاب نازل ہوا اس سے وہ حقیقی موت نہ مرے بعض مفسّرین نے اِس عذاب کا تعلق پہلے بچھڑے کی پوجا سے قائم کیا ہے مگر یہ درست نہیں۔یہاں واضح الفاظ میں بنی اسرائیل کا ایک اور جرم مذکور ہے یعنی ان کا یہ قول کہ ہم کبھی بھی موسیٰ ؑ کی بات نہیں مانیں گے جب تک خدا ہم کو سامنے نہ نظر آ جائے۔دوسرے یہاں جو سزا مذکور ہوئی ہے وہ بچھڑے والی سزا سے مختلف ہے پس معلوم ہوا کہ وہ