تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 96

وَ اِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ اور( اس وقت کو بھی یاد کرو) جب تم نے کہا تھا کہ اے موسیٰ ہم تیری بات ہر گز نہیں مانیںگے جب تک ہم اللہ کوآمنے جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۰۰۵۶ سامنے نہ دیکھ لیں اس پر تمہیں ایک مہلک عذاب نے پکڑ لیا اور تم( اپنی آنکھوں سے اپنے فعل کا انجام) دیکھ رہے تھے۔حَلّ لُغَات۔جَھْرَۃً۔اَلْجَھْرَۃُ کے معنے ہیں مَاظَھَرَ جو چیزسامنے نظر آ رہی ہو اور آیت لَنْ نُّـؤْمِنَ۔۔۔۔۔الخ میں جَھْرَۃًکے معنی ہیں عَیَانًا غَیْرَ مُسْتَتِرٍ یعنی کھلم کھلا۔ظاہر۔(اقرب) اَلصَّاعِقَۃُ۔اَلصَّاعِقَۃُ کے معنے ہیں اَ لْمَوْتُ۔موت۔کُلُّ عَذَابٍ مُھْلِکٍ۔ہر مہلک عذاب۔صَیْحَۃُ الْعَذَابِ۔عذاب کی آواز۔نَارٌ تَسْقُطُ مِنَ السَّمَآئِ فِیْ رَعْدٍ شَدِیْدٍ لَا تَمُرُّ عَلٰی شَیْ ءٍ اِلَّا اَحْرَقَتْہُ وہ آگ جو بادل سے کڑک کے ساتھ نازل ہوتی ہے اور جس چیز پر گرے اُسے جلا دیتی ہے (یعنی گرنے والی بجلی) (اقرب) اَلصَّاعِقَۃُ۔ھِیَ الصَّوْتُ الشَّدِیْدُ مِنَ الْجَوِّ ثُمَّ یَکُوْنُ مِنْہُ نَارٌ فَقَطْ اَوْ عَذَابٌ اَوْ مَوْتٌ وَھِیَ فِیْ ذَاتِھَا شَیْ ءٌ وَّاحِدٌ وَھٰذِہِ الْاَشْیَآ ءُ تَأْثِیْرَاتٌ مِّنْھَا۔صَاعِقَہ اس ہولناک گرج اور آواز کو کہتے ہیں جو فضا سے پیدا ہوتی ہے پھر اس سے کبھی تو آگ واقع ہوتی ہے یا عذاب یا موت نازل ہوتی ہے۔تفسیر۔یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ بعض ضدّی لوگ جب دلائل اور براہین کا جواب نہیں دے سکتے تو ایسی شرائط لگانے لگتے ہیں جو بے فائدہ ہوں اور جن سے سوائے بات ٹالنے کے اور کچھ مقصود نہ ہو۔اس زمانہ میں بھی بہت سے لوگ ہیں کہ جب ہستی باری تعالیٰ کو دلائل سے ثابت شدہ دیکھتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ ہم تو تب تک نہ مانیں گے جب تک خدا کو نہ دیکھ لیں۔بنی اسرائیل میں سے بھی معلوم ہوتا ہے ایک جماعت نے حضرت موسیٰ ؑسے ایسا مطالبہ کیا گو بائیبل میں اس کا ذکر نہیں لیکن یہ ایک ایسا عام سوال ہے جو قریباً ہر زمانہ میں صداقت کے مقابلہ میں ہوتا آرہا ہے اور اس بات کی صداقت میں قرآن کریم کے مخالف بھی شک نہیں کر سکتے چونکہ قرآن کریم خود الٰہی کلام ہونے کا مدعی ہے اس لئے ضروری نہیں کہ بائبل کے بیان کردہ امور سے زائد کسی واقعہ کا ذکر نہ کرے۔اللہ تعالیٰ کی رؤیت کے متعلق ایک ہی قسم کے دو سوال اور ان میں فرق اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے اس مطالبہ پر کہ ہمیں خدا تعالیٰ دکھا دو عذاب نازل ہوا مگر حضرت موسیٰ ؑنے بھی تو رَبِّ اَرِنِیْ