تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 85
کے نہیں ہوتی پس یاد رکھو کہ وہی قوم زندہ ہو سکتی ہے جو اپنے لئے موت کو قبول کر لے اور اس دنیا میں اللہ تعالیٰ احیاء موتیٰ اسی طرح کرتا ہے کہ ایسے احکام دیتا ہے جو قوم کو بمنزلہ موت نظر آتے ہیں مگر جب وہ ان پر عمل کر لیتی ہے تو اسے زندگی مل جاتی ہے۔خلاصہ رکوع ۳۴ بتایا کہ زندگی کا اعتبار نہیں اس لئے جلد سے جلد نیکی کی طرف توجہ کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا چاہیے پھر اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے بارہ میں ایک مختصر مگر جامع بیان دیا جو آیۃ الکرسی کہلاتا ہے اور جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی بہترین آیت قرار دیا ہے۔پھر فرمایا ایسی اعلیٰ صفات والے خدا سے تعلق کسی جبر کا محتاج نہیں بلکہ اس کا حُسن خود دلوں کو موہ لیتا ہے او ریہی تعلق مفید ہو سکتا ہے۔پس دین کے بارہ میں جبر سے کام نہ لو کیونکہ مذہب کی غرض تزکیہ ہے اور جبر سے دلوں کا تزکیہ نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ جن کو اپنے قُرب میں جگہ دیتا ہے ان کے دلوں کی تاریکی کو دلائل و براہین سے دُور کرتا ہے صرف ظاہری اقرار کو وہ پسند نہیں کرتا۔خلاصہ رکوع ۳۵ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پاکیزگی عطا کرنے کے دو طریق ہیں اوّل افراد کی پاکیزگی جو براہِ راست بندو ںکو عطا کی جاتی ہے جیسے انبیاء کو۔دوسرے ا قوام کی پاکیزگی جو انبیاء کے ذریعہ سے انہیں حاصل ہوتی ہے پھر فرمایا کہ پاکیزگی کی یہ اقسام ابراہیم ؑ کی اولاد کو چار زمانو ںمیں خاص طو رپر ملنی مقدر ہیں۔خلاصہ رکوع ۳۶ پھر فرمایا کہ قومی پاکیزگی کے حصول کے لئے جدوجہد کی بھی اور تعاونِ باہمی کی بھی ضرورت ہوتی ہے ہاں کوئی یہ اعتراض کرے کہ تعاون باہمی تو ہر قوم کی ترقی کا ذریعہ ہے اس میں خدا تعالیٰ کے ماننے والوں کی کوئی شرط نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ ایمان سے آزاد ہو کر تعاونِ باہمی کرتے ہیں ان کے اعمال کے نتائج قربانیوں کے مطابق ہوتے ہیں لیکن جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ایسا کرتے ہیں ان کی قربانیوں کے نتائج ان کی کوششوں کے مقابلہ پر بہت زیادہ ہوتے ہیں اور ان لوگوں کی علامت یہ ہے کہ (۱) وہ قربانیاں خدا تعالیٰ کے احکام کے قیام کے لئے کرتے ہیں (۲) وہ اپنی قربانیوں کو خدا تعالیٰ کے لئے سمجھتے ہیں اور بندوں پر احسان نہیں جتاتے۔خلاصہ رکوع ۳۷ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے لئے قربانیاں کرتے ہیں ان کے عمل کبھی ضائع نہیں ہو سکتے۔اور ان کے دل قربانیوں پر مطمئن ہوتے ہیں اور ان کے اعمال میں پاکیزگی پیدا ہوتی جاتی ہے۔پھر بتایا کہ گو حُسن سلوک کسی سے بھی ہو اچھا کام ہے مگر جو لوگ دنیا کی اصلاح میں مشغول ہوں ان سے حسنِ سلوک زیادہ ثواب کا موجب ہوتا ہے مگر یہ بھی یاد رہے کہ وہی حسن ِ سلوک مفید ہو گا جو جائز طور پر کمائے ہوئے اموال سے ہو۔خلاصہ رکوع ۳۸ فرمایا کہ سود کا کاروبار حسنِ سلوک اور تعاون باہمی کی روح کے خلاف ہے اس سے مومن