تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 84
خلاصہ رکوع ۲۴, ۲۵ اس رکوع میں حج کے قواعد بیان کئے گئے ہیں جو اجتماع امت کا ذریعہ ہے اور بتایا ہے کہ ایسے پرُ امن مقام کے رستہ میں جو لوگ فساد پیدا کرتے ہیں ان سے جنگ کرنی فساد نہیں بلکہ امن کا قیام ہے۔پس مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے جنگ کرنے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے اور بتایا ہے کہ ایک مرکز کے بغیر سب عالم ایک رسی میں نہیں بندھ سکتا پس حج کے حکم کو معمولی حکم نہ سمجھیں۔خلاصہ رکوع ۲۶ اس میں احکام کی حکمتوں کو بیان کیا گیا ہے اور بتایا ہے کہ شریعت کو فضول نہیں سمجھنا چاہیے۔ظاہر باطن کی درستی کا موجب ہوتا ہے اور شریعت کی مخالفت کی اصل وجہ دنیا کی محبت ہوتی ہے کہ انسان اپنے اوقات او راموال خدا کی راہ میں خرچ کرنا پسند نہیں کرتا اور بہانے بنا کر اس بوجھ سے بچنا چاہتا ہے ایسے ہی بہانو ںسے دنیا میں اختلافات بڑھتے ہیں اور انبیاء کی لائی ہوئی تعلیم کو لوگ کچھ کا کچھ بنا دیتے ہیں حالانکہ روحانیت بغیر قربانی کے حاصل نہیں ہو سکتی۔پھر صدقہ خیرات کا ذکر کیا ہے کہ اس کا َمصرف کیا ہے اور بتایا ہے کہ سب سے بڑا مصرف صدقہ کا جہاد فی سبیل اللہ ہے جبکہ لوگ دین میں دخل اندازی کریں اور حرّیت ضمیر کو روکیں۔خلاصہ ع ۲۷ ایسے وقت میں جنگ ضروری ہوتی ہے اور مالی جانی قربانی لازمی۔حتی کہ اگر دشمنانِ صداقت حج کے مہینوں میں بھی کہ عام حالتو ںمیں ان میں لڑائی منع ہے جنگ کریں تو تم کو بھی ان میں جنگ کرناجائز ہو جائے گا۔جنگ کے ایام میں لوگ جوئے اور شراب کی طرف رغبت کرتے ہیں تاکہ دل کو بہلائیں اور جنگ کے لئے روپیہ جمع کریں۔فرمایا کہ مسلمانوںکی جنگ تو ایک دینی جنگ ہے ان کے دل کے بہلنے کا سامان تو اللہ تعالیٰ کی رضا میں موجود ہے۔انہیں ان بُرے کاموں سے پرہیز چاہیے۔پھر بتایا کہ اموال کی قربانی کی حد کوئی نہیں جو زیادہ سے زیادہ قربانی جس سے دوسروں کے حقوق کو نقصان نہ پہنچتا ہو انسان کر سکے کرے۔پھر فرمایا جنگوں کی وجہ سے کثرت سے یتا ٰمی رہ جائیںگے ان کے بارہ میں حکم یاد رکھو کہ بہتر سے بہتر سلوک ان سے کرنا اور یاد رکھنا کہ مشرک عورتوں مردوں سے شادی نہ کرناکہ اس سے نظام میں خلل آتا ہے۔خلاصہ رکوع ۲۸ تا ۳۱ پھر عورتوں کے عام احکام بیان فرمائے کہ حیض میں ان کے قریب نہ جائو اور اُن سے حسنِ سلوک کرو اور اگر کسی مجبوری سے ان سے قطع تعلق کرنا پڑے تو چار ماہ سے زیادہ ایسا نہ کرو ہاں بالکل تعلق قائم نہ رکھ سکتے ہو تو طلاق دے دو۔پھر طلاق کے احکام بیان کئے اور رضاعت اور بیوائوں کے بھی۔اس جگہ کتاب اور حکمت کا مضمون ختم ہوا۔خلاصہ رکوع ۳۲, ۳۳ رکوع ۳۲ سے تزکیہ کے اصول بیان کرنے شروع کئے بتایا کہ قومی ترقی بغیر قربانی