تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 75
کتاب فضائل القرآن باب کیف نزل الوحی واوّل ما نزل) اگر صرف نزول کی ترتیب کافی ہوتی تو جب کوئی آیت نازل ہوتی اسے اس سے پہلے کی نازل شدہ آیتوں کے ساتھ رکھ دیا جاتا۔سورتوں کی ترتیب مضامین کے لحاظ سے ہے سورۃ بقرہ ہی کو دیکھ لو۔اس کی رباء کی آیات قرآن کریم کے سب سے آخر میں نازل ہونے والے ٹکڑوں میں سے ایک ہیں لیکن وہ سورۂ بقرہ کے آخر میں نہیں رکھی گئیں بلکہ کئی رکوع پہلے رکھی گئی ہیں۔اسی طرح وَاتَّقُوْا یَوْمًا والی آیت جس کی نسبت احادیث میں آتا ہے کہ حجۃ الوداع میں نازل ہوئی سورۃ کے آخر میں نہیں رکھی گئی۔پس معلوم ہوا کہ آیتیں جس ترتیب سے نازل ہوتی تھیں اسی ترتیب سے انہیں سورتوں میں نہیں رکھا جاتا تھا بلکہ مضمون کے لحاظ سے رکھا جاتا تھا۔بعینہٖ یہی صورت سورتوں کی ترتیب کی ہے وہ بھی مضامین کے لحاظ سے جمع کی گئی ہیںنہ کہ نزول کے وقت کے لحاظ سے۔سورۂ عَلَقْ اورسُورۂ مُدَّثرکو ابتدا میں اتارنے کی حکمت یاد رہے کہ سب سے پہلے جو سورۃ نازل ہوئی یا یوں کہو کہ جس سورۃ کی بعض آیات نازل ہوئیں وہ سورۃ العلق ہے۔اس کی جو آیات سب سے پہلے نازل ہوئیںیہ ہیں۔اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ۔خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ۔الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ۔(العلق:۲تا۶)۔ان آیات میں تبلیغ کے شروع کرنے کا حکم ہے اور بتایا گیا ہے کہ تبلیغ کا حق انسان پر اس لئے ہے کہ اس کا ایک رب ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں محبت اور تعلق کا مادہ پیدا کیا ہے نیز اس نے انسان کے اندر ترقی کی قوتیں رکھی ہیں اور وہ اپنے بندے پر فضل کر کے اسے بڑھانا چاہتا ہے اور اس غرض سے اس نے انسان کو تحریر و تصنیف کا مادہ عطا کیا ہے تاکہ وہ اپنے علم سے خود ہی فائدہ نہ اٹھائے بلکہ دوسروں تک بھی اُسے پہنچائے اور آئندہ کے لئے بھی ان علوم کو محفوظ کر دے۔پھر فرماتا ہے کہ علمی ترقی کا مادہ اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی طاقت اس کے اندر رکھ کر اور علم کے محفوظ کرنے کا طریق بتانے کے بعد اس نے علم کی ترقی کے لئے ایسے سامان پیدا کئے ہیں جو ہر زمانہ میں علم کی ترقی کا موجب ہوتے رہیں گے اور انسان نئی سے نئی باتیں معلوم کرتا رہے گا جو اس کے باپ دادوں کو معلوم نہیں تھیں۔ان آیات میں قرآن کریم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ کی ضرورت کی طرف توجہ دلائی ہے۔یہ بتایا ہے کہ زمین و آسمان کا ایک خالق ہے یہ بتایا ہے کہ انسان ہدایت کا محتاج ہے او راس کے اند رہدایت پانے اور ترقی کرنے کی قوت پیدا کی گئی ہے جس کے ابھارنے کے لئے یہ الہام نازل ہوا ہے۔یہ سب باتیں وہ ہیں جو نبوت کا دعویٰ کرتے وقت سب سے مقدم ہیں سب سے پہلا مخاطب انسان کا اپنا نفس ہوتا ہے جب تک اس کا اپنا دل جوش اور اخلاص اور کام کی اہمیت اور ضرورت کے احساس سے پُر