تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 73

یہاں تک کہ حضرت ابن العربی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے استادوں میں سے ایک اُستاد سے سُنا ہے کہ سورۃ بقرہ میں ایک ہزار حکم ہے اور ایک ہزار مناہی ہے اور ایک ہزار فیصلے اور ایک ہزار خبریں ہیں (قرطبی تفسیر سورۃ البقرۃ) یہ صوفیانہ رنگ کی بات ہے لیکن اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ سورۃ بقرہ میں مضامین کی نوعیت اور احکامِ اسلام کی وسعت اس قدر ہے کہ دوسری سورتوں میں سے کسی میں بھی اس قدر نہیں ہے۔یہ جو آپؐ نے فرمایا کہ جس گھر میں سورۃ بقرہ پڑھی جائے اس میں شیطان نہیں آتا اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ اس سورۃ میں شیطانی وساوس کا ایسا ردّ موجود ہے کہ اس پر غور کرنے کے بعد شیطان گھر میں نہیں آ سکتا اور یہ جو فرمایا کہ صبح تک شیطان نہیں آتا اس سے اس طرف اشارہ کیا کہ تعلیم خواہ کیسی اعلیٰ ہو جب تک بار بار دہرائی نہ جائے دل پر پورا اثر نہیں ہوتا اور نیک اثر خواہ کس قدر اعلیٰ ہو کچھ عرصہ کے بعد اگر اس کی تجدید نہ کی جائے زائل ہو جاتا ہے۔اور یہ جو فرمایا کہ جو شخص سورۂ بقرہ کی پہلی چار آیتیں اور آیۃ الکرسی اور اس کے ساتھ کی دو آیتیں اور سورۂ بقرہ کی آخری تین آیتیں پڑھے اس کے گھر سے بھی شیطان بھاگ جاتا ہے اس سے بھی یہی مراد ہے کہ ان آیتوں میں اسلام کا خلاصہ ہے سورہ بقرہ کی پہلی آیتوں میں پاک عملی زندگی کا نقشہ کھینچا گیا ہے آیۃ الکرسی میں صفات باری کا نہایت لطیف نقشہ ہے اور سورۂ بقرہ کی آخری آیتوں میں دل کو پاک کر دینے والی دعائیں ہیںاور یہ تین چیزیں یعنی (۱) الٰہی کلام کی تتبع میں نیک اعمال کا بجا لانا۔(۲) صفات الٰہیہ پر غور کرنا۔(۳) او ران دونوں باتوں کے ساتھ دعا میں مشغول رہنا اور اپنے آپ کو آستانہ الٰہی پر گرا دینا جب اکٹھی ہو جائیں تو انسان کا دل پاک ہو جاتا ہے اور شیطان بھاگ جاتا ہے۔سورتوں کی ترتیب یہ سورۃ قرآن کریم کی تفصیلی سورتوں میں سے پہلی سورۃ ہے لیکن نزول کے لحاظ سے یہ سورۃ کلام الٰہی کے نزول کے چودھویں سال میں جا کر نازل ہونی شروع ہوئی اور کئی سال تک نازل ہوتی رہی۔بالآخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے کچھ ہی عرصہ پہلے مکمل ہوئی۔سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ کیوں نہ قرآن کریم کو اسی ترتیب سے جمع کیاگیا جس ترتیب سے کہ قرآن کریم نازل ہوا تھا؟ سورتوں کی لمبائی چھوٹائی کے لحاظ سے ان کے جمع نہ کئے جانے کے دو دلائل بعض دشمنانِ اسلام اور بعض مسلمانوں تک نے اس سوال کا یہ جواب دیا ہے کہ سورتوں کی لمبائی چھوٹائی کے لحاظ سے قرآن کریم کو جمع کر دیا گیا ہے اور کسی معنوی ترتیب کو مدِّنظر نہیں رکھا گیا۔یہ دعویٰ ایک نہایت لغو اور حقیقت سے دُور دعویٰ ہے