تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 66

گئے کہ گویا خدا تعالیٰ کا غضب انہی کے لئے ہے۔اس کے برخلاف نصاریٰ کے لئے ضَلَّ کا لفظ آیا ہے جیسے فرماتا ہے۔اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا (الکہف :۱۰۵) اسی طرح سورۂ مائدہ میں مسیحیوں کا ذکر کر کے اور مسیح اور ان کی والدہ کو خدائی کا رتبہ دینے کا بیان کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہےيٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِيْلِ (المائدة :۷۸) اے اہل کتاب ! (یعنی نصاریٰ کیونکہ اس جگہ انہی کا ذکر ہے) اپنے مذہبی خیالات میں غلوّ سے کام نہ لو اور ایسے لوگوں کے خیالات اوران کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو جو پہلے سے گمراہ چلے آ رہے ہیں اور بہتوں کو گمراہ کر چکے ہیں اور سیدھے راستہ سے بھٹک چکے ہیں یعنی عام نصاریٰ کو بتایا ہے کہ سب نصاریٰ شرک کے عقیدہ کے قائل نہ تھے ان میں سے موحّد بھی تھے اورمشرک بھی۔مشرک گروہ جو مسیح کو خدا قرار دیتا تھا وہ خود بھی گمراہ تھا اور اس نے باقی مسیحیوں میں بھی اپنا عقیدہ پھیلانا شروع کیا اور اکثر حصہ کو اس گمراہی کے عقیدہ پر لے آیا اور جو سیدھا راستہ توحید کا تھا اُسے چھوڑ دیا۔غرض قرآن کریم سے بھی اور اقوال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ مغضوب علیہم میں خاص طو رپر یہود مراد ہیں اور ضالّین سے خاص طور پر نصاریٰ مراد ہیں۔یہ آیت اَ لَّذِیْنَ کا یا اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ میں جو ھُم کی ضمیر ہے اس کا بدل ہے او راس کامفہوم یہ ہے کہ اے اللہ! ہمیں منعم علیہ گروہ کے راستہ پر چلا اور منعم علیہ سے ہماری مراد ایسے منعم علیہ ہیں جو بعد میں تیرے غضب کے مورد نہ ہو گئے ہوں یا جو کسی اور کی محبت میں تجھے چھوڑ نہ بیٹھے ہوں۔اس مضمون میں مومن کے لئے خشیت کا بہت بڑا سامان مہیا ہے۔اسے یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک انسان اس مقام تک نہ پہنچ جائے جس کے بعد کوئی گمراہی نہیں اسے کبھی مطمئن نہیں ہونا چاہیے اور اس جدوجہد میں لگا رہنا چاہیے کہ اس کا قدم زیادہ سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ تقویٰ کی راہو ںپر پڑتا رہے تا ایسا نہ ہو کہ تھوڑی سی غفلت سے وہ اپنے مقام سے گِر کرتباہ اور برباد ہو جائے۔آیت غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ میں ایک عظیم الشان پیشگوئی اس آیت میں ایک بہت بڑی پیشگوئی ہے جو ہر سوچنے والے کے لئے ترقی ایمان کا موجب ہو سکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس وقت یہ سورۃ نازل ہوئی ہے اس وقت یہود اور نصاریٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نہ تھے بلکہ کفار مکہ آپؐ کے مقابلہ پر تھے۔یہود اور نصاریٰ کی تعداد مکہ میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ تھی او رنہ ان کا حکومت میں کوئی دخل تھا پھر کیا وجہ ہے کہ اس سورۃ میں یہ نہیں سکھایا گیا کہ دعا مانگو کہ اللہ تعالیٰ تم کو پھر مشرک ہونے سے بچائے بلکہ یہ سکھایا گیا ہے کہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ یہود اور نصاریٰ کے طریق پر چلنے سے بچائے مشرکین کا ذکر چھوڑ کر یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ مشرکین مکہ کا