تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 568
بعض جگہ بنی اسرائیل میں سے اُس نبی کے آنے کی خبر ہے مگر چونکہ دوسری جگہ بنو اسمٰعیل میں سے ہونے کی خبر ہے اس کے معنے صرف یہ ہیں کہ اس کی قوم بنی اسرائیل کی برکات کی وارث ہو گی اور گویا آیندہ زمانہ میں وہ بنی اسرائیل کی قائم مقام ہو گی۔اور صیحون میں اس کے ظاہر ہونے کے الفاظ بیشک آتے ہیں لیکن اس کے معنے صر ف یہ ہیں کہ جس جگہ وہ ظاہر ہو گا وہ بھی خدا تعالیٰ کے مقدس مقامات میں سے ہو گا یعنی مکہ۔بہت سی دوسری علامات کے حرف بہ حرف پورا ہو جانے کے بعد اور سب سے زیادہ یہ کہ اس زمانہ میں ظاہر ہونے کے بعد جس میں کہ اس موعود کو ظاہر ہونا چاہیے تھا اور وہ کام کرنے کے بعد جو اس کے لئے مقدر تھا پھر بنی اسرائیل کا یہ اعتراض کہ فلاں فلاں پیشگوئی ابھی پوری نہیں ہوئی یا لفظاً پوری نہیں ہوئی محض حق اور باطل کو ملانے والی بات تھی اور لوگوں کو حق کے قبول کرنے سے روکنے کی ایک ناواجب کوشش۔مگر ایسی کوششیں نہ پہلے کبھی کامیاب ہوئی تھیں نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ہوئیں اور نہ آیندہ کبھی ہوں گی۔تَكْتُمُوا الْحَقَّ کی تشریح وَتَکْتُمُوا الْحَقَّ۔اس جملہ کا پہلے جملہ پر عطف ہے اس لئے وہی لَا جو پہلے گزر چکا ہے دوبارہ دہرایا جائے گا اور جملہ یوں ہو گا وَلَا تَکْتُمُوا الْحَقَّ۔اور تم حق کو نہ چھپائو۔یہ بنی اسرائیل کی دوسری شرارت بتائی وہ ان پیشگوئیوں کے چھپانے کی کوشش کرتے تھے جن سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ثابت ہوتی تھی۔گویا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو طرح مقابلہ کرتے تھے۔اوّل اس طرح کہ پیشگوئیوں کو مخلوط کر کے بیان کر دیتے تھے۔مثلاً لفظاً پورا ہونے والی پیشگوئیوں سے تعبیری پیشگوئیوں کو ملا دیتے تھے یا موعود آخر الزمان کی پیشگوئیوں کے ساتھ بعض سابق نبیوںکے متعلق جو پیشگوئیاں تھیں انہیں ملا دیتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بھی آنے والے کی علامت ہے حالانکہ وہ کسی اور نبی کی علامت ہوتی تھی اور اس کے وجود میں پوری ہو چکی تھی (اسی طرح آج کل بعض علمائے اسلام کرتے ہیں اسلام نے بہت سے مہدیوں کی خبر دی ہے بعض آ چکے اور اپنے متعلق پیشگوئیوں کو پورا کر چکے۔مگر یہ علماء آنے والے مہدی کے بارہ میں ان پیشگوئیوں کو بتا کر ان پیشگوئیوں کو مشتبہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اس کے بارہ میں ہیں اور پہلے زمانہ میں پوری ہو چکی ہیں) دوسرا حربہ وہ یہ استعمال کرتے تھے کہ بعض پیشگوئیوں کو عوام کی نظر سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتے تھے اور ان کا ذکر اپنے وعظوں میں چھوڑ جاتے تھے ا ور اگر مسلمان انہیں بیان کرتے تو صاف انکار کر دیتے تھے اگر کوئی واقف آدمی ان کو مجبور کر دیتا تو بہانے تراشنے لگ جاتے۔وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَکی تشریح وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔درآنحالیکہ تم جانتے ہو یعنی یہ حق و باطل کو ملانا اور بعض حق کو