تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 562
بھی ان کتب میں ہے وہ ضرور خدا کا کلام ہے۔لفظ تصدیق کے ساتھ دو مختلف صلے لا کر دو مختلف باتوں کی طرف اشارہ اس سوال کے متعلق ایک اور بات بھی قابل غور ہے اور وہ یہ کہ پہلی کتب کے لئے جس جس جگہ قرآنِ کریم میں تصدیق کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں اس کا صلہ لام آیا ہے سوائے دو جگہوں کے جہاں کوئی صلہ استعمال نہیں ہوا لیکن جہاں قرآنِ کریم یا رسولِ کریم کی نسبت یہ لفظ آیا ہے وہاں اس کا صلہ با آتا ہے اور لغت سے بھی ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تصدیق کے معنے اس کوسچا قرار دینے کے ہوں وہاں با صلہ آتا ہے پس اس اختلاف سے معلوم ہو جاتا ہے کہ جہاں جہاں پرانی کتب کی نسبت یہ لفظ استعمال ہوا ہے اس کے اور معنے ہیں اور وہ یہی ہو سکتے ہیں کہ پہلی کتب میں جو پیشگوئیاں تھیں قرآن کریم ان کا پورا کرنے والا ہے یہ نہیں کہ ان کے اندر جو کچھ غلط یا درست لکھا ہوا ہے اس کو سچا قرار دیتا ہے قرآنِ کریم کی بعض آیات بھی اس استدلال کی تصدیق کرتی ہیں۔سورۂ احقاف میں ہے۔قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ۔وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَيْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ يَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَيَقُوْلُوْنَ۠ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِيْمٌ۔وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا لِّيُنْذِرَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِيْنَ۠۔(الاحقاف :۱۱تا۱۳) یعنی اے لوگو! بتائو تو سہی کہ اگر یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوئی اور تم نے اس کا انکار کر دیا تو کیا بنے گا اور ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ نے اپنے مثل نبی آنے کی خبر دی ہے پس وہ تو ایمان لے آیا اور تم نے تکبر سے کام لیا یاد رکھو! کہ اللہ ظالموں کو کبھی کامیاب نہیں کرتا اور کافر مسلمانوں کے حق میں کہتے ہیں کہ اگر اس کلام میں کوئی بھلائی ہوتی تو یہ لوگ ہم سے پہلے کس طرح ایمان لے آتے۔بات یہ ہے کہ چونکہ ان کو ہدایت نہیں ملی اب تو انہوںنے یہی کہنا ہے کہ پہلے کلام بھی جھوٹے تھے یہ بھی ویسا ہی جھوٹ ہے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب گزر چکی ہے جو لوگوں کو ہدایت دیتی تھی اور رحمت کا موجب تھی اور اب یہ کتاب اس کی مصدق ہے اور عربی زبان میں نازل ہوئی ہے تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور محسنوں کو بشارت دے۔ان آیات سے پہلے کی آیات پڑھو تو معلوم ہو گا کہ اس جگہ یہود نہیں بلکہ کفار مکہ مخاطب ہیں ان سے کہا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک اپنے مثیل کی خبر دی تھی (جس میں یہ بھی خبر تھی کہ وہ بنی اسمٰعیل میں سے ہو گا) اب کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ موسیٰ ؑ نے بنو اسحاق میں سے ہو کر اس پر ایمان کا اظہار کیا اور تم جن کو عزت ملی تھی اپنی قوم کے نبی کے ماننے میں تکبر سے کام لے رہے ہو۔اس پر کفار کا اعتراض بیان فرمایا ہے کہ ہم تو اس کے جھوٹا