تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 550

اور اس کے پائوں کچھ لوہے کے اور کچھ مٹی کے تھے اور تو اسے دیکھتا رہا یہاں تک کہ ایک پتھر بغیر اس کے کہ کوئی ہاتھ سے کاٹ کے نکالے آپ سے نکلا جو اس شکل کے پائوں پر جو لوہے اور مٹی کے تھے لگا اور <mark>ان</mark>ہیں ٹکڑے ٹکڑے کیا۔تب لوہا اور مٹی اور ت<mark>ان</mark>با اور چ<mark>ان</mark>دی اور سونا ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور تابست<mark>ان</mark>ی کھلی<mark>ان</mark> کی بھوسی کے م<mark>ان</mark>ند ہوئے اور ہوَا <mark>ان</mark>ہیں اُڑا لے گئی یہاں تک کہ <mark>ان</mark> کا پتہ نہ ملا اور وہ پتھر جس نے اس مورت کو مارا ایک بڑا پہاڑ بن گیا اور تمام زمین کو بھر دیا۔وہ خواب یہ ہے۔اور اس کی تعبیر بادشاہ کے حضور بی<mark>ان</mark> کرتا ہوں۔تُو اے بادشاہ !بادشاہوں کا بادشاہ ہے اس لئے کہ آسم<mark>ان</mark> کے خدا نے تجھے ایک بادشاہت اور تو<mark>ان</mark>ائی اور قوت اور شوکت بخشی ہے اور جہاں کہیں بنی آدم سکونت کرتے ہیں اس نے مید<mark>ان</mark> کے چوپائے اور ہوا کے پرندے تیرے قابو میں کر دیئے اور تجھے <mark>ان</mark> سبھوں کا حاکم کیا۔توُ ہی وہ سونے کا سر ہے اور تیرے بعد ایک اور سلطنت برپا ہو گی جو تجھ سے چھوٹی ہو گی اور اس کے بعد ایک اور سلطنت ت<mark>ان</mark>بے کی جو تمام زمین پر حکومت کرے گی اور چوتھی سلطنت لوہے کی م<mark>ان</mark>ند مضبوط ہو گی اور جس طرح کہ لوہا توڑ ڈالتا ہے اور سب چیزوں پر غالب ہوتا ہے۔ہاں! لوہے کی طرح سے جو سب چیزوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے اسی طرح وہ ٹکڑے ٹکڑے کرے گی اور کچل ڈالے گی اور جو کہ تو نے دیکھا کہ اس کے پائوں اور <mark>ان</mark>گلیاں کچھ تو کمہار کی ماٹی کی۔اور کچھ لوہے کی تھیں سو اس سلطنت میں تفرقہ ہو گا۔مگر جیسا کہ تو نے دیکھا کہ اس میں لوہا گلاوے سے ملا ہوا تھا۔سو لوہے کی تو<mark>ان</mark>ائی اس میں ہو گی اور جیسا کہ پائوں کی <mark>ان</mark>گلیاں کچھ لوہے کی اور کچھ ماٹی کی تھیں۔سو وہ سلطنت کچھ قوی کچھ ضعیف ہو گی اور جیسا تو نے دیکھا کہ لوہا گلاوے سے ملا ہوا ہے وے اپنے آپ کو <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کی نسل سے ملاویںگے لیکن جیسا لوہا مٹی سے میل نہیں کھاتا تیساوے باہم میل نہ کھاویںگے اور <mark>ان</mark> بادشاہوں کے ایام میں آسم<mark>ان</mark> کا خدا ایک سلطنت برپا کرے گا جو تا ابد نیست نہ ہو وے گی اور وہ سلطنت دوسری قوم کے قبضے میں نہ پڑے گی۔<mark>ان</mark> سب مملکتو ںکو ٹکڑے ٹکڑے اور نیست کرے گی اور وہی تا ابد قائم رہے گی جیسا کہ تو نے دیکھا کہ وہ پتھر بغیر اس کے کہ کوئی ہاتھ سے اس کو پہاڑ سے کاٹ نکالے آپ سےآپ نکلا اور اس نے لوہے اور ت<mark>ان</mark>بے اور مٹی او رچ<mark>ان</mark>دی اور سونے کو ٹکڑے ٹکڑے کیا۔خدا تعالیٰ نے بادشاہ کو وہ کچھ دکھایا جو آگے کو ہونے والا ہے اور یہ خواب یقینی ہے اور اس کی تعبیر یقینی۔‘‘ (د<mark>ان</mark>یال باب ۲ آیت ۳۱ تا ۴۵) <mark>ان</mark> تین <mark>ان</mark>بیاء کی بتائی ہوئی خبر سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری زم<mark>ان</mark>ہ میں ایک روح<mark>ان</mark>ی بادشاہ کا ظہور ہونے والا تھا جس نے کونے کے پتھر کی حیثیت پ<mark>ان</mark>ی تھی یعنی وہ روح<mark>ان</mark>ی سلسلہ کا آخری وجود ہونے والا تھا۔وہ پتھر بڑا قیمتی ہو گا مضبوط ہونےوالا۔جو اس پر ایم<mark>ان</mark> لائیںگے صاحب وقار ہوں گے اور جلد باز نہ ہوں گے۔وہ پتھر ایسا ہو گا جسے