تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 549

ہوئی۔یہود نے جب تھکے ہوئوں کو آرام میں نہ رہنے دیا تو وہ ’’چلے بھی‘‘ گئے یعنی کچھ ان میں سے مدینہ سے جلاوطن کئے گئے۔وہ ’’پچھاڑی بھی گرے‘‘ یعنی بعض قتل بھی کئے گئے۔انہوں نے شکست بھی کھائی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور دام میں پھنسے اور گرفتار بھی ہوئے۔بعض ان میں سے غلام بھی بنائے گئے۔یہ کیسی واضح پیشگوئی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے پوری ہوئی اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ کتاب عَرَبِّیٌ مُّبِیْنٌ نازل نہ ہوتی اور یسعیاہ نبی کی پیشگوئی کی اس طرح تصدیق نہ ہوتی تو یسعیاہ جھوٹے قرار پاتے لیکن قرآن کریم کے ذریعہ سے ان کی پیشگوئی پوری ہو کر ان کے کلام کی تصدیق ہو گئی۔تصدیق نمبر ۶ قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یسعیاہ نبی کے ایک اور کلام کی تصدیق کرنا یہی یسعیاہ نبی فرماتے ہیں ’’باوجود اس کے خداوند یہووا یوں فرماتا ہےدیکھو میں صیحون میں بنیاد کے لئے ایک پتھر رکھوںگا ایک آزمایا ہوا پتھر، کونے کے سرے کا ایک مہنگ مولا ،ایک مضبوط ہونیوالا پتھر اس پر جو ایمان لاوے اُتاولی نہ کرے گا ‘‘۔(یسعیاہ باب ۲۸ آیت ۱۶) قرآن مجید کا حضرت دائود اور حضرت دانیال کے کلام کی تصدیق کرنا حضرت دائود علیہ السلام فرماتے ہیں’’ وہ پتھر جسے معماروں نے رد کیا کونے کا سرا ہو گیا ہے۔یہ خداوند سے ہوا جو ہماری نظروں میں عجیب ہے۔‘‘ (زبور ۱۱۸۔آیت ۲۲ و ۲۳) پھر فرماتے ہیں ’’مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام سے آتا ہے۔ہم خداوند کے گھر میں سے تم کو مبارک بادی دیتے ہیں‘‘ (آیت ۲۶) پھر اسی بارہ میں دانیال علیہ السلام پر الہام نازل ہوا اس کا قصہ یوں ہے کہ نبوکد نضر بادشاہ نے ایک خواب دیکھا جسے وہ بھول گیا۔اس نے اپنے منجموں سے اس کا حال پوچھا مگر انہوں نے بھولی ہوئی خواب کی تعبیر بتانے سے معذوری ظاہر کی اس پر بادشاہ نے ان کے قتل کا حکم دیا۔دانیال نبی جو یروشلم سے لائے ہوئے قیدیوں میں سے تھے انہوں نے یہ حال سنا تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اس نے ان کو خواب اور اس کی تعبیر بتا دی اس پر انہوں نے بادشاہ سے خواب اور اس کی تعبیر بتانے پر آمادگی ظاہر کی اور مندرجہ ذیل الفاظ میں خواب اور اس کی تعبیر بتائی۔’’تو نے اے بادشاہ نظر کی تھی اور دیکھ ایک بڑی مورت تھی وہ بڑی مورت جس کی رونق بے نہایت تھی تیرے سامنے کھڑی ہوئی اور اس کی صورت ہیبت ناک تھی۔اس مورت کا سر خالص سونے کا تھا۔اس کا سینہ اور اس کے بازو چاندی کا۔اس کا شکم اور رانیں تانبے کی تھیں۔اس کی ٹانگیں لوہے کی