تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 548
کے لفظ سے کیا ہے۔ع ر ب کے معنے عربی زبان میں اظہار کے ہوتے ہیں اور عرب عربو ںکا نام اسی لئے ہے کہ وہ خیموں میں رہتے تھے۔ادب کے دلدادہ تھے اور نہایت فصیح بلیغ کلام کرتے تھے۔خیموں اور بادیہ میں رہنے کی وجہ سے ان کے مخالف بجائے خیموں میں رہنے والوں کے انہیں وحشی کہتے تھے۔بائبل نے بھی یہی طریق اختیار کیا اور جہاں حضرت اسماعیل کا ذکر آیا وہاں بھی انہیں وحشی کے لفظ سے یاد کیا ہے۔اور جہاں ان کی اولاد میں سے آنے والے نبی کا ذکر آیا وہاں بھی بجائے یوں کہنے کے کہ وہ اسماعیل کی اولاد میں سے ہو گا یہ لکھ دیا کہ وہ وحشی کے ہونٹوں سے کلام کرے گا گو قرآن کریم عربی زبان میں ہے اور ہر اک کو نظر آتا ہے اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی مگر پھر بھی یسعیاہ نبی کی اس پیشگوئی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے قرآن کریم فرماتا ہےوَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا لِّيُنْذِرَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِيْنَ۠(الاحقاف:۱۳) یعنی اس قرآن سے پہلے موسیٰ کی کتاب گزر چکی ہے یہ قرآن اس کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والا ہے چنانچہ انہی پیشگوئیوں کے مطابق یہ عربی زبان میں اُترا ہے تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور محسنوں کو بشارت دے اس جگہ قرآن کریم کا عربی زبان میں ہونا موسوی کتب کی تصدیق کا موجب قرار دیا ہے۔اس سے اشارہ کتاب پیدائش کی اس پیشگوئی کی طرف ہے جس میں حضرت اسماعیل کو وحشی یعنی عرب قرار دیا گیا ہے اور دوسرے استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ کی اس پیشگوئی کی طرف جس میں کہا گیا تھا کہ آئندہ شریعت والا کلام بنو اسحاق میں سے کسی فرد پر نہیں بلکہ ان کے بھائی بنو اسماعیل پر اُتارا جائے گا اور ضمناً حضرت یسعیاہ کی پیشگوئی کی طرف بھی اشارہ ہو گیا جو حضرت موسیٰ کے تابع نبی تھے اور جن کی مذکورہ بالا پیشگوئی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب میں بیان شدہ پیشگوئی کی مزید وضاحت تھی۔(۴) چوتھے یہ بتایا گیا تھا کہ وہ نبی یہود سے کہے گا کہ اس کا جائے رہائش آرام گاہ یعنی امن کا مقام ہے پس تم اُن کو جو تھکے ہوئے ہیں آرام دیجیو۔اس طرح تم چین سے رہو گے مگر یہود نبی کی اس بات کو نہ مانیںگے اور اس جگہ کو آرام گاہ نہ بننے دیں گے اور تھکے ہوئوں کو تکلیف دیں گے۔یہ امر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صادق آتا ہے۔آپؐ نے مدینہ منورہ کو جہاں یہود بھی رہتے تھے مکہ مکرمہ کی طرح امن کی جگہ قرار دیا اور یہود سے مدینہ منورہ کو با امن رکھنے کے لئے معاہدہ کیا (السیرةالحلبیة باب الھجرۃ الی المدینۃ) لیکن انہوں نے ’’تھکے ہوئوں کو‘‘ یعنی مہاجرین کو جو دُور سے سفر کر کے آئے تھے آرام سے نہ رہنے دیا اور مطابق پیشگوئی خود بھی چین نہ پایا (۵) پانچویں اس پیشگوئی میں تھا۔حکم پر حکم نازل ہو گا ’’تاکہ وے چلے جاویں اور پچھاڑی گریں اور شکست کھاویں اور دام میں پھنسیں اور گرفتار ہوویں‘‘۔یہ پیشگوئی بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں پوری