تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 545

کی خبر تھی جو شعیر کے علاقہ میں ظاہر ہوئے۔تیسرے الٰہی جلوہ کے ظہور کا مقام فاران بتایا گیا ہے اور اس جلوہ کی تفصیل پہلے دونوں جلووں سے زیادہ بیان کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی جلوہ کا ذکر اس جگہ اصل میں مقصود ہے۔اس جلوہ کا مقام فاران بتایا گیا ہے اور اس جلوہ کے ظہور کی کیفیت یہ بیان کی گئی ہے کہ دس ہزار قدوسیوں کی معیت میں وہ ہوگا۔اور اس کی مزید خصوصیت یہ بتائی گئی ہے کہ جس شخص کے ذریعہ سے وہ جلوہ ظاہر ہو گا اس کے داہنے ہاتھ میں ایک آتشی شریعت ہو گی۔یہ تینوں نشانیاں بتمام و کمال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں پائی جاتی ہیں۔آپؐ قرآن کریم کی واضح پیشگوئیوں کے مطابق جب کفارِ مکہ پر غالب آ کر مکہ میں داخل ہوئے تو فاران کی طرف سے ہی آپؐ کا داخلہ ہوا کیونکہ مدینہ اور مکہ کے درمیان میں فاران کی وادی واقع ہے اور جس وقت آپ مکہ پر حملہ آور ہوئے آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ کا لشکر تھا اور آپ ایک آتشی شریعت دنیا کے لئے لائے تھے یعنی جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے انسان کی بدیو ں اور اس کے گناہوں کو جلا دینے والی ہے اور اس لحاظ سے بھی وہ آتشی شریعت ہے کہ اس میں نہ صرف ماننے والوں کے لئے انعامات کے وعدے ہیں بلکہ منکرو ںاور شریروں کے لئے سزائوں کا بھی ذکر ہے۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر نہ ہوتے انہیں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہ کرنی پڑتی۔اور پھر خدا تعالیٰ آپؐ کو دشمنوں پر غلبہ نہ دیتا، آپؐ کے ہاتھ پر مکہ فتح نہ ہوتا، آپؐ کے ساتھ اس وقت دس ہزار صحابہ نہ ہوتے، آپؐ کے ہاتھ میں ایک کامل شریعت جو صرف مومنوں کے لئے ترقی کی خبر دینے والی نہ تھی بلکہ دشمنانِ حق کی سزائوں کی خبروں پر بھی مشتمل تھی نہ ہوتی تو استثنا باب ۳۳ آیت ۲ کی پیشگوئی کس طرح پوری ہوتی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وحی کی تصدیق کس طرح ہوتی؟ پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی اس پیشگوئی کو پورا کرنے اور اسے سچا ثابت کرنے کا موجب ہو کر مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمْ ثابت ہوئی۔تصدیق نمبر ۴ قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت سلیمان علیہ السلام کے کلام کی تصدیق کرنا تصدیق نمبر ۴ حضرت سلیمان علیہ السلام کے الہام کی ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام غزل الغزلات میں فرماتے ہیں۔’’میرا محبوب سرخ و سفید ہے۔دس ہزار آدمیو ںکے درمیان وہ جھنڈے کی مانند کھڑا ہوتا ہے اور اس کا سر ایسا ہے جیسا چوکھا سونا۔اس کی زلفیں پیچ در پیچ ہیں اور کوے کی سی کالی ہیں۔اس کی آنکھیں ان کبوتروں کی مانند ہیں جو لبِ دریا دودھ