تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 537
ایک غیر مسلم سوال کر سکتا ہے کہ کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اور ان کے بعد میں آنے والے انبیاء نے واقع میں کسی ایسے نبی کی خبر دی تھی جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت نے پورا کر دیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دنیا کی ہر قوم میں ایک آخری زمانہ کے نبی کی خبر دی گئی تھی اور اس کی بعض علامات بھی بتائی گئی تھیں جو پورے طو رپر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں پوری ہو گئیں خصوصاً اسرائیلی نبیو ںکی پیشگوئیاں تو اس بارہ میں بکثرت ملتی ہیں اس کثرت سے کہ ان پر ایک ضخیم کتاب لکھی جا سکتی ہے۔اس آیت میں سب انبیاء اور اقوام کی پیشگوئیوں کا ذکر نہیں اس لئے اس وقت میں ان کو بیان نہیں کرتا لیکن مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ کے مضمون کی مطابقت سے بنی اسرائیل کے نبیو ںکی پیشگوئیوں کا ذکر چونکہ ضروری ہے میں اختصار کے ساتھ ان کا ذکر اس جگہ کرتا ہوں۔تصدیق نمبر۱ قرآن مجید اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تورات اور انجیل کی سات تصدیقات۔قرآن کی پہلی تصدیق حضرت ابراہیم ؑ کی پیشگوئیوں کی پہلی تصدیق قرآن کریم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کرتا تھا جنہوں نے بنو اسمٰعیل کی ترقی کی پیشگوئی کی تھی اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ آتے اور آپ پر وحی نازل نہ ہوتی تو حضرت ابراہیم جھوٹے قرار پاتے۔حضرت ابراہیم ؑ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ ’’اسمٰعیل کے حق میں َمیں نے تیری ُسنی۔دیکھ میں اسے برکت دوںگا اور اسے برومند کروںگا اور اسے بہت بڑھائوںگا اور اس سے بارہ سردار پیدا ہوں گے اور میں اسے بڑی قوم بنائوںگا۔‘‘ (پیدائش باب ۱۷ آیت۲۰ و ۲۱) اس پیشگوئی سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح اسحاق کی اولاد سے وعدہ تھا کہ انہیں بہت بڑھائوںگا اور اسے برکت دوںگا اور اس سے بڑی قوم بنائونگا۔اسی طرح حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے متعلق بھی وعدہ تھا گو باوجود اس کے بائبل میں لکھا ہے کہ یہ عہد اسحاق کی اولاد سے پورا ہو گا مگر یہ تو قلم درکفِ دشمن کی وجہ سے ہے ورنہ ساری باتیں جو حضرت اسحاق کی نسبت کہی گئی تھیں حضرت اسمٰعیل کی نسبت بھی کہی گئیں۔تو پھر عہد کا حضرت اسحاق سے مخصوص ہونا بے معنی ہے۔بائبل کے قول کے مطابق خدا کا کلام حضرت ہاجرہ پر بھی نازل ہوا تھا اور اس میں اسمٰعیل ؑ کی نسبت یہ پیشگوئی تھی۔حضرت ابراہیم ؑ اور ہاجرہ کی بنواسماعیل کی ترقی کے متعلق پیشگوئیاں ’’میں تیری اولاد کو بہت