تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 536
کہ اِشْتَرَیْتُ ثَوْبًا بِکَسَاءٍ کہ میں نے چادر دے کر کپڑا خریدا۔تو اس میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کپڑے کی قیمت چادر ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کپڑا چادر کی قیمت ہے گویا ہر دو اشیاء ایک دوسرے کی قیمت بن سکتی ہیں او رجب یہ بتانا مقصود ہو کہ فلاں چیز اتنی رقم سے خریدی گئی ہے اور وہاں مال کا ذکر ہو تو اس وقت مال کو ثَـمَنْکہیں گے اور اس پر بَـاء داخل ہو گی جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق آتا ہے وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ(یوسف:۲۱)کہ قافلہ والوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو چند دراہم دے کرخرید لیا تو یہاں درہم ثَـمَن بن سکتے ہیں۔(لسان) اِتّقُوْنِ۔اِتَّقُوْا امر جمع مخاطب کا صیغہ ہے۔نِ۔نِیْ کا قائم مقام ہے۔اِتَّقُوْنِ کے معنے ہیں۔مجھ سے ڈرو۔اِتَّقٰی کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۳۔تفسیر۔اس آیت میں واضح کر دیا گیا ہے کہ اَوْفُوْا بِعَھْدِیْ کے معنے استثنا باب ۱۸ کے موعود نبی کو قبول کرنا ہے کیونکہ اَوْفُوْا بِعَهْدِيْۤ کے بعد اٰمِنُوْا بِمَا اَنْزَلْتُ کہا گیا ہے جس سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ایفاءِ عہد اور خدا تعالیٰ کا خوف اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی پر ایمان لانا یہ سب امور ان انعامات کی تکمیل کے ساتھ گہرا تعلق رکھنے والے ہیں جو بنی اسرائیل کے لئے مقرر تھے۔بِمَا اَنْزَلْتُ۔اَنْزَلْتُ کے بعد ضمیر واحد غائب محذوف ہے کیونکہ مَا کی طرف ضمیر کا پھرنا ضروری ہے پس اصل جملہ یہ ہو گا بِمَا اَنْزَلْتُہٗ یعنی اس پر ایمان لائو جسے میں نے نازل کیا ہے۔مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ۔یہ جملہ اَنْزَلْتُ کے بعد جو ضمیر محذوف ہے اس کا حال ہے اور مطلب یہ ہے کہ میرے اُتارے ہوئے اس کلام پر ایمان لائو جو اس کا جو تمہارے پاس ہے مصدّق ہے۔مطلب یہ ہے کہ اس کلام کے ذریعہ سے موسیٰ علیہ السلام کی استثنا باب ۱۸ آیت ۱۸ والی پیشگوئی پوری ہوئی ہے۔اسی طرح اور بنی اسرائیل کے نبیوں کی پیشگوئیاں پوری ہوئی ہیں پس اس کلام اور اس کے لانے والے پر ایمان لانا اپنے سابق الہامی کلام کی تصدیق کرنا ہے اور اس کے حکم پر عمل کرنا ہے اور اس کو نہ ماننا اس کلام کی تکذیب اور تردید ہے گویا بنی اسرائیل میں سے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیش کردہ کلامِ الٰہی قرآنِ کریم پر ایمان لاتا ہے وہ حضرت موسیٰ اور دوسرے اسرائیلی نبیوں پر بھی ایمان لاتا ہے کیونکہ انہوں نے ان کی خبر دی تھی اور جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پر نازل شدہ کلام کو رد کرتا ہے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے اسرائیلی نبیوں کو بھی رد کرتا ہے کیونکہ وہ ان کی تصدیق کو ٹھکرا دیتا ہے۔پس وہ ان انعامات کا مستحق نہیں رہتا جو ان کی تصدیق اور ان پر ایمان لانے سے وابستہ کئے گئے تھے۔