تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 48
ہدایت کسی ایک چیز کا نام نہیں بلکہ اس کے بے انتہا مدارج ہیں۔ہدایت کے ایک درجہ سے اوپر دوسرا درجہ ہے۔اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے جاذب ہو جاتے ہیں انہیں ایک درجہ کے بعد دوسرے درجہ سے روشناس کرایا جاتا ہے۔صِـرَاطٌ۔صِـرَاطٌ۔راستہ۔یہ لفظ ص سے بھی لکھا جاتا ہے اور س سے بھی۔صِرَاطٌ یا سِرَاطٌ ایسے راستہ کو کہتے ہیں جو صاف ہو۔چنانچہ عربی کا محاورہ ہے سَرَطْتُ الطَّعَامَ میں نے کھانا بسہولت نگل لیا۔اور اچھے اور ہموار راستہ کو سِرَاطٌ یا صِرَاطٌ اس لئے کہتے ہیں کہ گویا اس پر چلنے والا اسے کھاتا جاتا ہے۔( مفردات) مُسْتَقِیْمٌ۔مُسْتَقِیْمٌ۔اِسْتِقَامَۃٌ سے ہے۔مفردات میں ہے۔اَ لْاِسْتِقَامَۃُ یُقَالُ فِی الطَّرِیْقِ الَّذِیْ یَکُوْنُ عَلٰی خَطٍّ مُسْتَوٍوَبِہٖ شُبِّہَ طَرِیْقُ الْمُحِقِّ نَحْوُ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ یعنی اِسْتِقَامَۃٌ اس راستہ کے لیے بولا جاتا ہے جو سیدھا ہو اور اس وجہ سے جو شخص راستی پر ہو۔اس کے طریق کو بھی مستقیم کہتے ہیں چنانچہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کی آیت میں یہی معنی ہیں۔تفسیر۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کی آیت میں جامع دعا اس آیت میں ایسی اعلیٰ اور مکمل دعا سکھائی گئی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔یہ دعا کسی خاص امر کے لئے نہیں ہے بلکہ ہر چھوٹی بڑی ضرورت کے متعلق ہے اور دینی اور دنیوی ہر کام کے متعلق اس دعا سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ہر کام خواہ دینی ہو یا دنیاوی اس کے پورا کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی طریق ہوتا ہے اگر اس طریق کو اختیار کیا جائے تو کامیابی ہو گی ورنہ نہ ہو گی۔پھر بعض دفعہ کئی طریق ایک کام کو کرنے کے نظر آتے ہیں۔جن میں سے بعض ناجائز ہوتے ہیں اور بعض جائز۔جو جائز راستے ہوتے ہیں ان میں سے بعض تو مراد تک جلدی پہنچا دیتے ہیںاور بعض دیر سے پہنچاتے ہیں۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کی دعا میں ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہیں کہ وہ ہماری اس طریق کی طرف راہنمائی کرے جو اچھا اور نیک ہو اور جس پر چل کر ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں اور جلد سے جلد کامیاب ہوں۔کیسی سادہ اور کیسی مکمل یہ دعا ہے او رپھر کیسی وسیع ہے! زندگی کا وہ کونسا مقصد ہے جس کے متعلق ہم اس دعاکو استعمال نہیں کر سکتے اور جو شخص یہ دعا مانگنے کا عادی ہو وہ کس کس رنگ میں اپنی محنت کو زیادہ سے زیادہ بار آور کرنے کی کوشش نہ کرے گا کیونکہ جس شخص کوہر وقت یہ یادکرایا جائے گا کہ ہر مقصد کے حصول کے لئے اچھے طریق بھی ہیں اوربرُے طریق بھی ہیں اور یہ کہ اسے ہمیشہ اچھے طریق کے تلاش کرنے اور اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اورپھر اچھے طریقوں میں سے بھی اس طریق کو اختیار کرنا چاہیے جو سب سے قریب ہو۔اس کا دماغ کس طرح اس تعلیم کو اپنے اندر جذب کرلے گا۔ظاہر ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے دعا کرے گا کہ اسے صراط مستقیم دکھایا جائے اس کا دماغ خود بھی اس