تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 47
آگے آگے چلا۔کہتے ہیں جَاءَ تِ الْـخَیْلُ یَھْدِیْہَا فَرَسٌ اَشْقَرُ اَیْ یَتَقَدَّ مُہَا۔گھوڑے آئے جبکہ ان کے آگے آگے ایک سرخ رنگ کا گھوڑا دوڑتا چلا آ رہا تھا۔(اقرب) لفظ ہدایت اور اس کے تین معانی پس ھَدَی کے تین معنی ہیں راستہ دکھانا۔راستہ تک پہنچانا اور آگے آگے چل کر منزلِ مقصود تک لئے جانا۔قرآن کریم میں ہدایت کے لفظ کا استعمال مختلف معانی میں قرآن کریم میں بھی ھَدَایَۃٌ کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ایک معنی اس کے کام کی طاقتیں پیدا کر کے کام پر لگا دینے کے ہیں۔مثلاً قرآن کریم میں آتا ہے اَعْطٰی کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ھَدٰی (طٰہٰ :۵۱) یعنی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ نے اس کے مناسب حال کچھ طاقتیں پیدا کیں پھر اسے اس کے مفوضہ کام پر لگا دیا۔دوسرے معنی ہدایت کے قرآن کریم سے ہدایت کی طرف بلانے کے معلوم ہوتے ہیں۔مثلاً فرمایا۔وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا (السجدة:۲۵) اور ہم نے ان میں سے امام بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق لوگوں کو تورات کی طرف بلاتے تھے۔تیسرے معنی ہدایت کے قرآن کریم سے چلاتے لئے آنے کے ہیں جیسے کہ جنتیوں کی نسبت آتا ہے کہ وہ کہیں گے۔الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدٰنَا لِھٰذَا (الاعراف:۴۴) سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو ہمیں جنت کی طرف چلاتا لایا اور جس نے ہمیں یہاں تک پہنچا دیا۔اسی طرح ہدایت کے معنی سیدھے راستہ کے ساتھ موانست پیدا کرنے کے بھی ہوتے ہیں قرآن کریم میں ہے۔وَ مَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ (التّغابن :۱۲) جو اللہ پر کامل ایمان لاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ہدایت سے موانست پیدا کر دیتا ہے اور اچھی باتوں سے اسے رغبت ہو جاتی ہے۔اس آیت میں راہ دکھانے کے معنی نہیں ہو سکتے کیونکہ جو ایمان لاتا ہے اسے راہ تو پہلے ہی مل چکا۔ہدایت کے معنی کامیابی کے بھی قرآن کریم میں آتے ہیں سورۂ نور میں منافقوں کا ذکر فرماتا ہے کہ وہ کہتے تو یہ ہیں کہ انہیں جنگ کا حکم دیا جائے تو وہ ضرور اس کے لئے نکل کھڑے ہوںگے لیکن عمل ان کا کمزور ہے۔فرماتا ہے قسمیں نہ کھائو عملاً اطاعت کرو۔کیونکہ اللہ تمہارے اعمال سے واقف ہے۔پھر فرماتا ہے اے رسول! ان سے کہہ دے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔پھر اگر اس حکم کے باوجود تم پھر گئے تو رسول پر اس کی ذمہ واری ہے۔تم پر تمہاری۔اور یاد رکھو !کہ اِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْا(النور: ۵۵) اگر تم رسول کی بات اس بارہ میں مان لو گے تو نقصان نہ ہو گا بلکہ تم کا میاب ہو جائوگے اور فتح پائو گے۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے وَالَّذِيْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى ( محمد :۱۸) جو لوگ اس ہدایت کو جو انہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے اپنے نفس میں جذب کر لیتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اور ہدایت عطا کرتا ہے۔قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ