تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 531

اس طرح بنی اسرائیل کا کوئی حصہ بھی عہد پر قائم نہ رہا اور خدا تعالیٰ نے عہد کو بنی اسمٰعیل کی طرف منتقل کر دیا۔خلاصہ یہ کہ گو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی بنی اسرائیل نے نبیوں کا انکار کیا لیکن وہ انکار عارضی ہوتا تھا اور بعد میں وہ اس نبی کو قومی نبی کے طور پر تسلیم کر لیتے تھے سوائے حضرت مسیح کے کہ جن کو بنی اسرائیل کی باقی قوم نے قبول نہ کیا لیکن چونکہ وہ اسرائیلی نبی تھے اسرائیل ہی کی طرف آئے تھے اور جیسا کہ اناجیل سے ثابت ہے موسوی شریعت پر چلنے کا ہی حکم دیتے تھے اور ان کے پہلے مومن اسرائیل میں سے ہی تھے اس لئے ان پر ایمان لانے والے اسرائیلیوں کے ذریعہ سے وہ وعدہ قومی طور پر پورا ہوتا رہا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار اور رنگ کا تھا۔آپ موسوی شریعت کے تابع نہ تھے بلکہ موسیٰ ؑ کی پیشگوئی کے مطابق ایک نئی شریعت لائے تھے اور اسرائیل کی طرف مبعوث نہ تھے بلکہ سب دنیا کی طرف مبعوث تھے پس آپ کے ذریعہ سے جو دین قائم ہوا وہ موسوی دین کا تسلسل نہ تھا اور اسرائیل اس پر قومی فخر نہ کر سکتے تھے اور ان کی قومی برتری کا دور اس سے ختم ہو جاتا تھا اس لئے فرمایا گیا کہ چونکہ تم نے اپنا عہد توڑ دیا ہم نے بھی اپنا عہد ختم کر دیا۔دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ گو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے اسرائیلی نبیوں کا تسلسل ٹوٹ گیا اور بنی اسرائیل کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے وہ تسلسل پہلی شکل میں پھر قائم نہ ہو سکتا تھا لیکن پھر بھی اَوْفُوْا بِعَهْدِيْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ(البقرۃ:۴۱)کے ارشاد کے مطابق بنی اسرائیل پر خدا تعالیٰ کی رحمتو ںکا سلسلہ جاری رہ سکتا تھا چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ۠ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ۔وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِيْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا يَعْمَلُوْنَ۔يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ (المائدة :۶۶تا۶۸) یعنی اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور تقویٰ سے کام لیتے تو ہم ان کی غلطیوں پر پردہ ڈال دیتے اور ہم انہیں نعمت والی جنتوںمیں جگہ دیتے اور اگر وہ تورات کو قائم کرتے اور انجیل کو اور اس کلام کو بھی جوان پر (یعنی موجودہ زمانہ کے اہل کتاب پر) ان کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے تو وہ اپنے اوپر سے بھی کھاتے یعنی روحانی غذا کے دروازے ان کے لئے کھولے جاتے اور آسمانی الہام ان پر نازل ہوتا وہ اپنے قدموں کے نیچے سے بھی کھاتے یعنی مادی انعامات بھی ان پر نازل ہوتے۔ان میںسے ایک جماعت میانہ رو ہے (یعنی جو اسلام لے آئے ہیں) اور اکثر ان میں سے بُرے عمل کرتے ہیں۔اے رسول! جو تجھ پر نازل کیا گیا ہے اسے پوری طرح پہنچا اور اگر تو