تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 527
کے لئے بطور علامت قرار دیا گیا ہے۔اس تشریح کے مطابق آیت زیر تفسیر کے معنے یہ ہوئے کہ اے بنی اسرائیل! یاد کرو کہ ہمارے تمہارے درمیان ایک عہد ہوا تھا اس عہد کا جو حصہ ہمارے متعلق تھا وہ ہم نے پورا کر دیا۔تم میں سے پے در پے نبی بھی بھجوائے اور بادشاہ بھی بنائے اور اس کے بالمقابل جو حصہ عہد کا تم سے تعلق رکھتا تھا وہ تم نے پورا نہ کیا اور تمہارے دل نامختون ہو گئے اور تم نے اپنے خدا کے حکمو ںکو بھلا دیا اور اس کے نتیجہ میںتمہارے دلو ںمیں غیر اللہ کا خوف جاگزیں ہو گیا اگر تم اپنے حصہءِ عہد کو پورا کرو تو میں بھی پھر اپنے عہد کو تم سے پورا کرنے کو تیار ہوں لیکن تمہارا یہ امید کرنا کہ میں تو عہد کے اس حصہ کو پورا کرتا جائوں جو مجھ سے تعلق رکھتا ہے لیکن تم متواتر اس حصہ کو نظر انداز کرتے جائو جو تمہارے متعلق ہے درست نہیں۔بنی اسرائیل پر اتمام نعمت والا عہد دوسرے انبیاء کے ذریعہ سے کئی بار دہرایا گیا جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد یہی عہد دوسرے انبیاء کے ذریعہ سے پھر دہرایا گیا ہے چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جو اسرائیلی قوم کی شریعت لانے والے تھے ان کے ذریعہ سے بھی یہ عہد دہرایا گیا تھا۔یہ عہد ایسا مشہور و معروف ہے کہ بائبل میں بیسیوں جگہ اس کا ذکر آتا ہے اور بار بار اسے عہد کے نام سے پکارا گیا ہے۔خروج باب ۲۰ میں وہ دس احکام جو حضرت موسیٰ ؑ کی معرفت دیئے گئے اور بنی اسرائیل کے ساتھ ایک نیا عہد باندھا گیا تفصیلاً درج ہیں۔استثنا باب ۵ آیت ۲ اور باب ۱۸ آیت ۱۸ و ۱۹ کو ملا کر معلوم ہوتا ہے کہ سینا پہاڑ پر یا حورب پر جو نام کوہِ سینا کا کتاب استثنا میں مستعمل ہے۔خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو بلا کر دس حکم دیئے اور بنی اسرائیل سے ایک نیا عہد باندھا (استثنا باب ۵ آیت ۲) اور کہا کہ اگر وہ ان احکام کے پابند رہیں تو میں ان کی قوم کو زندہ رکھوںگا اور ان کا بھلا ہو گا اور ارضِ مقدس پر ان کے قبضہ کی مہلت لمبی ہوتی چلی جائے گی (استثنا باب ۵ آیت ۳۳) جس وقت یہ احکام نازل ہو رہے تھے اور خدا تعالیٰ کا جلال کوہ سینا یا حورب پر ظاہر ہو رہا تھا۔خطرناک بجلی چمک رہی تھی اور مہیب آوازیں آ رہی تھیں جسے دیکھ کر بنی اسرائیل جو خدا تعالیٰ سے عہد باندھنے کے لئے اپنے خیموں سے باہر نکل کر دامنِ کوہ میں کھڑے تھے ڈر گئے اور انہوں نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ ہم اس کلام کو نہیں سنتے۔تُوخدا سے سن کر ہمیں سنا دیا کر ہم ڈرتے ہیں کہ ہم اس کلام کو سن کر کہیں مر نہ جائیں۔(خروج باب ۲۰ آیت ۱۹) موعود عہد کی تجدید حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے اس پر خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑسے کہا کہ جو کچھ انہوں نے کہا ہے اچھا کہا ہے۔جب تک یہ ان احکام پر کاربند ہوں گے برکت پائیں گے لیکن آئندہ