تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 526

گیا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ بندہ کی طرف سے عہد ختنہ کا نہیں بلکہ عہد اَور ہے ہاں! اس کا ظاہری نشان ختنہ ہے۔یہود نے اس کو نہ سمجھا اور صرف ختنہ پر خوش ہو گئے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہود کو اس طرف توجہ دلائی کہ وہ صرف کسی ایک حکم پر عمل کر کے خوش نہ ہوں اور یہ نہ سمجھیں کہ اس کے ذریعہ سے انہوں نے عہد کا اپنا حصہ پورا کر دیا ہے۔وہ اپنی قوم کو خدا تعالیٰ کا یہ حکم پہنچاتے ہیں۔’’پر اگر تم میرے سننے والے نہ ہو اور ان سب حکموں پر عمل نہ کرو اور میری سنتوں کو حقیر جانو یا تمہارے دل میری عدالتوں کو ناپسند کریں ایسا کہ تم میرے حکموں پر عمل نہ کرو اور مجھ سے عہد شکنی کرو تو میں بھی تم سے ویسا ہی کروں گااور خوف اور سل اور تپ ِ سوزاں کو تمہارے اوپر غالب کرائونگا جس سے تمہاری آنکھیں پھوٹیں اور دل دکھیں اور تم اپنے بیج بے فائدہ بوئوگے اس لئے کہ تمہارے دشمن اسے کھائیں گے اور میرا چہرہ تمہارے برخلاف ہو گا‘‘ (احبار باب ۲۶ آیت ۱۴ تا ۱۷) (آخری الفاظ کو عہد کے ان الفاظ کے ساتھ ملا کر دیکھنا چاہیے کہ میں تیرا اور تیری نسل کا خدا ہونگا) اس حوالہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ختنہ صرف ایک ظاہری نشان تھا ورنہ اصل عہد جس کی پابندی کی حضرت ابراہیم ؑکی اولاد سے توقع کی گئی تھی یہ تھا کہ وہ دل کے پاک ہوں خدا تعالیٰ کی سنتو ںپر مطمئن ہوں اور اس کے سب احکام پر عمل کریں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کے نبیوں نے بھی اس مضمون کو خوب کھول کر بیان کیا ہے۔یرمیاہ نبی بنی اسرائیل کو عذابِ الٰہی سے ڈراتے ہوئے فرماتے ہیں ’’اسرائیل کے سارے گھرانے کے دل نامختون ہیں‘‘ (یرمیاہ باب ۹ آیت ۲۶) اسی طرح فرماتے ہیں ’‘دیکھ وے دن آتے ہیں خداوند کہتا ہے کہ میں ان سب کو جو مختون ہیں نامختون کے ساتھ سزا دوں گا۔‘‘ (یرمیاہ باب ۹ آیت ۲۵) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ یرمیاہ نبی جسم کے مختون ہونے کو عہد کا پورا کرنا نہیں سمجھتے بلکہ دل کے مختون ہونے کو اصل ذریعہ عہد کے پورا کرنے کا قرار دیتے ہیں۔حضرت ابراہیم ؑ کے واسطہ سے ان کی اولاد سے خدا تعالیٰ کے دو وعدے خلاصہ یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واسطہ سے ایک معاہدہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد سے کیا تھا۔اس معاہدہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم کی اولاد سے خدا رسیدہ لوگ پیدا کرے گا جو قرآن کریم کے بیان کے مطابق امام یعنی اولوالعزم نبی ہوں گے اور دوسرے یہ کہ وہ انہیں کنعان کا ملک بطور میراث دے گا جس کے وہ بادشاہ ہوں گے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وحی چونکہ اصل صورت میں محفوظ نہیں اس کا جس قدر حوالہ بائبل سے مل سکتا ہے بیشک اس میں ختنہ کی پوری تشریح نہیں مگر حضرت موسیٰ کی کتاب احبار اور یرمیاہ نبی کی وحی سے میں نے ثابت کر دیا ہے کہ ختنہ سے مراد صرف ظاہری ختنہ نہیں بلکہ اصل مراد دل کی صفائی اور کامل فرمانبرداری ہے۔جسمانی ختنہ اس