تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 520
اقسام ہو گئیں ایک جو یہودی مذہب پر تھے اور دوسرے جو مسیحی تھے اسلام نے آ کر اسرائیلیوں میں سے بعض کو مسلمان بنا لیا اور اس طرح ایسے اسرائیلی بھی ہو گئے جن کا مذہب اسلام تھا۔لفظ یہود کے استعمال کی ابتدا اور اس کے معنے کی وسعت خلاصہ یہ کہ یہودیہ کے رہنے والوں میں چونکہ موسوی مذہب نے فروغ پایا اور تمام بڑے انبیاء وہیں پیدا ہوئے یا اسی سے تعلق رکھتے تھے جیسے یرمیاہ، حزقیل، دانی ایل، عزرا ،نحمیاہ وغیر ھم۔اور اسرائیلی حکومت میں بت پرستی رائج ہو گئی۔یہودیہ کی حکومت کے توابع یہودکے نام سے مشہور ہوئے اور چونکہ اس زمانہ میں بہت سے غیر اسرائیلی بھی موسوی مذہب میں داخل ہوئے۔مذہب موسوی رکھنے والوں کا نام قوم سے ممتاز کرنے کے لئے یہودی ہو گیا۔اور اسلام سے چند صدی پہلے یہودی کے معنے موسوی مذہب رکھنے والے کے ہو گئے۔مگر چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وعدے جو دنیاوی عزّت اور اعلیٰ روحانی مراتب سے متعلق تھے ان کی نسلوں سے خاص تھے۔بنی اسرائیل کا لفظ الگ طو رپر قومی امتیاز کو بتانے کے لئے قائم رہا۔قرآن کریم پر اسرائیلی تاریخ سے ناواقفیت کا الزام لگانے والوں کا جواب میں نے کسی قدر تفصیل سے یہ امر اس لئے بیان کیا ہے تایہ بتائوں کہ قرآن کریم جس پر یہودی مذہب اور اسرائیلی تاریخ سے ناواقفیت کا الزام لگایا جاتا ہے اس امتیاز کوصحیح طور پر بیان کرتا ہے یعنی جہاں مذہب کا سوال ہوتا ہے یہودی کا لفظ استعمال کرتا ہے لیکن جہاں ان قومی وعدوں کا ذکر کرتا ہے جو آل ِابراہیم ؑ یا آلِ موسیٰ ؑ یا آلِ دائود ؑ سے خاص تھے یا موسوی انبیاء کے مخاطبین کا ذکر کرتا ہے وہاں یہودی کا لفظ استعمال نہیں فرماتا بلکہ بنی اسرائیل کا لفظ استعمال فرماتا ہے کیونکہ وہ وعدے موسوی دین اختیار کرنے والوں سے نہ تھے بلکہ ان بنی اسرائیل سے تھے جو خدا تعالیٰ کے عہد کو قائم رکھیں خواہ موسوی دین پر ہوں خواہ اس کے بعد آنے والے کسی اور الٰہی دین پر ہوں جیسے کہ مسلمان ہونے والے بنی اسرائیل مگر لطیفہ یہ ہے کہ اس کے برخلاف ان معترضین کا جو قرآن کریم پر اسرائیلی تاریخ سے ناواقفیت کا الزام لگاتے ہیں یہ حال ہے کہ ان کی مذہبی کتب تک اس بارہ میں غلطی کر جاتی ہیں چنانچہ اناجیل نے بھی اس بارہ میں غلطی کی ہے مثلاً مسیح علیہ السلام کی نسبت لکھا ہے ’’یہودیوں کا بادشاہ‘‘ چنانچہ لکھا ہے کہ پیلاطوس نے مسیح علیہ السلام سے پوچھا ’’کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے یسوع نے اس سے کہا ہاں تو سچ کہتا ہے‘‘ (متی باب ۲۷ آیت ۱۱۔مرقس باب ۱۵ آیت ۲ ولوقا باب۲۳۔آیت ۳) اس بادشاہت کے دعویٰ کی بنیاد زکریاہ نبی کی کتاب پر ہے اس میں لکھا ہے ’’اے صیحون کی بیٹی تو نہایت خوشی کر۔اے یروشلم کی بیٹی تو خوب للکار کہ دیکھ تیرا بادشاہ تجھ پاس آتا ہے‘‘ (زکریاہ باب ۹ آیت ۹ )