تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 517
مشہور یہودی عالم جوزیفس لکھتا ہے کہ مذہب بدل کر یہودی بننے والا شخص وہ ہے جو یہودی رسموں کو اختیار کرے اور جو یہودی قانون کی اتباع کرتے ہوئے اور خدا تعالیٰ کی اس رنگ میں عبادت کرتے ہوئے کہ جس رنگ میں کہ یہود عبادت کرتے ہیں (یہودی ہو جائے)۔(جوئش انسا ئیکلوپیڈیا زیر لفظ Proselyte) بنی اسرائیل کے علاوہ اور لوگوں کو موسوی مذہب میں داخل ہونے کی اجازت بائبل سے بھی اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ عملاً بھی بعض لوگ موسوی مذہب کو قبول کر لیتے تھے چنانچہ بائبل کی ایک کتاب روت نامی ہے یہ روت جس کا اس میں ذکر ہے۔موآبی لڑکی تھی جو ایک اسرائیلی سے بیاہی گئی اور اس نے موسوی مذہب کو قبول کر لیا تھا۔اسی طرح عزرا باب ۳ آیت ۲ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسوری لوگ جو فلسطین میں بس گئے تھے انہوں نے بھی یہودی طریقہ کو اختیار کر لیا تھا تاریخ سے بھی اس امر کی تصدیق ہوتی ہے چنانچہ رومی مؤرخین ٹیسیٹس (Tacitus)ڈیوکیسیس (Diocassious)اور ہوریس (Horece) وغیرھم نے اپنی کتب میں ان رومیوںکا ذکر کیا ہے جنہوں نے یہودی مذہب کو قبول کر لیا تھا (جوئش انسا ئیکلوپیڈیا زیر لفظ Proselyte) اسلامی تاریخ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ کے عربو ںمیں سے بھی بعض لوگوں نے یہودی مذہب کو اختیار کیا ہوا تھا۔چنانچہ کعب بن اشرف مشہور دشمن اسلام جس نے معاہدین میں شامل ہونے کے باوجود دشمنانِ اسلام کو مدینہ پر چڑھائی کے لئے اکسایا تھا اور مسلمانوں کے قتل کے منصوبے کئے تھے اور اس وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا فتویٰ دیا تھا۔ایسے ہی لوگوں میں سے تھا۔اس کا باپ بنو بنہان قبیلہ کا عرب تھا ایک شخص اس کے ہاتھ سے قتل ہو گیا اور وہ بھاگ کر مدینہ آ گیا وہاں اس نے یہودی قبیلہ بنو نضیر سے معاہدہ کر لیا اور اسی قبیلہ کی ایک لڑکی عقیلہ بنت ابی الحقیق سے شادی کر لی اور اس طرح یہودیوں میں شامل ہو گیا آگے اس کا بیٹا کعب بھی یہودی المذہب رہا۔(زرقانی زیر عنوان قتل کعب ابن الاشرف) اسی طرح بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض مشرکین مدینہ نذر کے طو رپر اپنی اولاد کو یہود میں داخل کرنے کا اقرار کر لیتے تھے اور وہ بڑے ہو کر یہودی مذہب کے ہو جاتے تھے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے۔’’کَانَتِ الْمَرْأَۃُ تَکُوْنُ مِقْلَاۃً فَتَجْعَلُ عَلٰی نَفْسِہَا اِنْ عَاشَ لَھَا وَلَدٌ اَنْ تُھَوِّدَہٗ فَلَمَّا اُجْلِیَتْ بَنُوالنَّضِیْرِکَانَ فِیْہِمْ مِنْ اَبْنَاءِ الْاَنْصَارِ فَقَالُوْالَا نَدَعُ اَبْنَاءَ نَا فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کہ مدینہ کی عورتوں میں سے جب کسی عورت کے بچے بچپن میں ہی فوت ہو جاتے تو وہ نذر مان لیتی کہ اگراس کا بچہ بچ جائے تو وہ اس کو یہودی مذہب میں داخل کر دے گی۔چنانچہ جب بنو نضیر کو جلا وطن کیا گیا تو ان میں انصار