تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 516

لوگ بھی مخاطب ہو سکتے ہیں جو یہودی مذہب تو چھوڑ چکے ہوں لیکن ہوں حضرت یعقوبؑ کی نسل سے مثلاً ان میں سے عیسائی یا مسلمان ہو جانے والے لوگ اسی طرح جہاں یہود یا ھود کا لفظ استعمال ہوا ہے اس میں ایسے لوگ بھی شامل سمجھے جا سکتے ہیں جو بنی اسرائیل سے تو نہ ہو ںلیکن موسوی مذہب کو مانتے ہوں۔شائد کسی کو یہ شبہ گزرے کہ یہودی لوگ تو اپنے مذہب میں کسی کو داخل نہیں کرتے اس لئے جہاں یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے بعض نصرانی یا مسلمان ہو گئے ہوں وہاں یہ بات سمجھ میں نہیں آ سکتی کہ کوئی غیر اسرائیلی یہودی مذہب میں داخل ہو گیا ہو۔اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک بنی اسرائیل موسوی مذہب کو اپنے لئے مخصوص سمجھتے تھے مگر اس میں بعض مستثنیات بھی تھے اور بعض قسم کے لوگوں کو یہودی مذہب میں شامل کرنے کی اجازت بھی ہوتی تھی مثال کے طور پر یہودیوں کے غلام یا ان کے ملک میں آ کر اور ان کے تابع ہو کر بسنے والے لوگوں کو یہودی مذہب قبول کرنے کی اجازت ہوتی تھی چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب خروج میں لکھا ہے کہ ’’اور اگر کوئی بیگانہ تمہارے ساتھ مقیم ہو اور خداوند کی فسح کیا چاہے (یعنی یہود کی تہواروں میں شامل ہونا چاہے) تو اس کے سب مرد اپنا ختنہ کروائیں۔تب وہ نزدیک آئے اور فسح کرے۔اور اب وہ گویا تمہاری زمین میں پیدا ہوا ہے۔کیونکہ نامختون انسان اسے نہ کھائے گا۔وطنی اور بیگانے کی جو تمہارے بیچ میں ہے ایک شریعت ہو گی‘‘ (خروج باب ۱۲ آیت ۴۸۔۴۹) ان آیات سے ظاہر ہے کہ موسوی شریعت گو اپنے آپ کو بنی اسرائیل سے مخصوص قرار دیتی ہے لیکن سوسائٹی میںیک جہتی قائم رکھنے کے لئے اس امر کی اجازت دیتی ہے کہ جو لوگ بنی اسرائیل کے درمیان آکر بس جائیں اور ان کے ساتھ مل کر ایک حکومت کا جزو بننا چاہیں وہ موسوی شریعت میں داخل ہو سکتے ہیں۔اسی طرح استثناء باب ۲۳۔آیت ۳ تا ۸ میں ان قوموںکی لسٹ بتائی ہے جن کے افراد بعض قیود کے ماتحت یہودی نظام میں شامل ہو سکتے ہیں۔یسعیاہ میں لکھا ہے ’’اور بیگانے کی اولاد بھی جنہوں نے اپنے آپ کو خداوند سے پیوستہ کیا ہے اس کی بندگی کریں اور خداوند کے نام کو عزیز رکھیں۔اور اس کے بندے ہوویں۔وے سب جو سبت کو حفظ کر کے اسے ناپاک نہ کریں اور میرے عہد کو لئے رہیں میں ان کو بھی اپنے مقدس پہاڑ پر لائوںگا اور اپنی عبادت گاہ میں انہیں شادمان کروںگا اور ان کی سوختنی قربانیاں اور ان کے ذبائح میرے مذبح پر مقبول ہوں گے کیونکہ میرا گھر ساری قوموں کی عبادت گاہ کہلائے گا۔‘‘ (باب ۵۶ آیت ۶،۷) عہد کو قائم رکھیں سے اس جگہ مراد ختنہ کرانا ہے کیونکہ عہد ابراہیمی کی علامت ختنہ کو قرار دیا گیا تھا اِس کی تائید استثناء باب ۱۲ کے مذکورہ بالا حوالہ سے بھی ہوتی ہے۔