تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 46
صورت میں جزا سزا ایک بے معنی فعل ہو جاتا ہے اور اِیَّاکَ نَعْبُدُکہہ کر بتایا ہے کہ انسانی ارادہ اپنی ذات میں آزاد ہے۔گو ایک حد تک وہ محدود ہو لیکن اس کے اس حد تک آزاد ہونے میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ ہدایت کو دیکھ کر اپنے لئے ایک نیا راستہ اختیار کرلے مثلاً گو انسان بُرے اثرات کے تابع ہو لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی صفات پر وہ غور کرے تو اِیَّاکَ نَعْبُدُ کی آواز اس کے اندر سے پیدا ہو سکتی ہے اور ہوتی ہے اور اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ڈاکٹر فرائڈ اور ان کے شاگرد اس کا کیا جواب دے سکتے ہیں کہ حالات بدلتے رہتے ہیں اور خیالات بھی بدلتے رہتے ہیں دنیا کبھی ایک حال پر قائم نہیں رہتی؟ اگر بچپن کے اثرات ایسے ہی زبردست ہوتے کہ ان سے انسان آزاد نہ ہو سکتا تو چاہیے تھا کہ آدم سے لے کر اس وقت تک دنیا ایک ہی راہ پر گامزن رہتی لیکن اس میں بار ہا تغیر ہوا ہے اور ہو رہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے تغیرات ممکن ہیں جو انسان کے خیالات کی رَو کو اس سمت سے بدل دیں جن پر اس کے بچپن کے تاثرات اسے چلا رہے تھے۔قرآن کریم نے اس کے نہایت زبردست دلائل دیئے ہیں مگر اس جگہ ان کی تفصیل کا موقع نہیں۔یہاں صرف اجمالی طور پر اس آیت سے جو استدلال ہوتا تھا۔اسے بیان کر دیا گیا ہے۔اس عقیدہ کا رد کہ انسان اپنے خیالات میں بالکل آزاد ہے جبر کے عقیدہ کے بالکل مخالف ایک اور خیال بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان اپنے خیالات میں بالکل آزاد ہے۔اور اللہ تعالیٰ اس کے کاموں میں کوئی دخل نہیں دیتا۔اسلام اس خیال کو بھی ردّ کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم ان اثرات کو جو گردو پیش سے انسان پر پڑ رہے ہیں بالکل نظر انداز نہیں کر سکتے۔پس ضروری ہے کہ ایک بالا ہستی جو تمام اثرات سے بالا ہے انسان کی نگران رہے اور ایسے بداثرات جب خطرناک صورت اختیار کر جائیں تو انسان کی مدد کر کے ان سے اسے بچائے۔اور اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کی دعا سکھا کر اس طرف توجہ دلائی ہے اور بتایا ہے کہ تمہارا خدا ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھا بلکہ تمہاری مجبوریوں کو دیکھ رہا ہے۔پس تم اس سے مانگو تو وہ تم کو دے گا۔کھٹکھٹائو تو وہ تمہارے لئے کھولے گا۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَۙ۰۰۶ ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔حَلّ لُغَات۔اِھْدِنَا۔اِھْدِنَا ھَدَی سے ہے کہتے ہیں۔ھَدَاہُ اِلَی الطَّرِیْقِ بَیَّنَہٗ لَہٗ اسے رستہ بتایا۔ھَدَی الْعُرُوْسَ اِلٰی بَعْلِہَا زَفَّھَا اِلَیْہِ دُلہن کو اس کے خاوند تک لے گیا۔ھَدَی فُلَا نًا۔تَقَدَّمَہٗ اس کے