تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 506
تفسیر۔یعنی جو لوگ ہدایت کو چھوڑ کر ان نشانوں کا انکار کریںگے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی شناخت کے لئے اس وقت پیدا کئے ہوں گے وہ ایک آگ میں پڑ جائیں گے۔اور دلی اطمینان اور قلبی راحت ان کو حاصل نہ ہو گی خواہ بظاہر ہزاروں نعمتوں میں گھرے ہوئے ہوں اور مابعدالموت سزائوں کے وارث ہوں گے۔وَھُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَکی تشریح وَھُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ۔خلود کے معنے ہیں ایک لمبا عرصہ رہنا۔دیکھو کلّیات ابی البقاء وَفِی الْاَصْلِ اَلثَّبَاتُ الْمَدِیْدُ دَامَ اَمْ لَمْ یَدُمْ یعنی خلود کے اصل معنے ایک لمبا عرصہ تک رہنے کے ہیں خواہ ہمیشہ رہیں یا نہ رہیں۔یہ معنے نہیں کہ وہ ہمیشہ رہیں گے۔اسلام دائمی عذاب کا قائل نہیں۔بلکہ دوزخ کو ایک شفا خانہ کی طرح قرار دیتا ہے جس میں لوگ صرف اصلاح کے لئے داخل کئے جائیںگے۔اسلام کا خدا غیظ اور کینہ کے طور پر انتقام نہیں لیتا بلکہ وہ سزا کی یہ وجہ بیان فرماتا ہے کہ انسان کی اصلاح ہو جائے۔جب یہ بات حاصل ہو جاتی ہے تو عذاب ٹل جاتا ہے اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ دوزخ پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اس میں کوئی بھی دوزخی نہ رہے گا اور نسیم اس کے دروازے ہلائےگی۔(تفسیر مَعَالِمُ التَّنزِیل سورۃ ھود زیر آیت فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا (ھود :۱۰۷)۔واقعہ آدم میں ہر ایک مسلمان کے لئے نصیحت گو یہ واقعہ کسی پچھلے زمانہ میں انسانی نسل کے کسی خاص جدّ کے ساتھ بھی گزرا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے بیان فرمانے میں ایک ایسا رنگ اختیار کیا ہے جس سے ہر ایک مسلمان نصیحت حاصل کر سکتا ہے اوریہی وجہ ہے کہ بہت سی باتوں کا ذکر بطور قصہ کے نہیں کیا بلکہ ایسے الفاظ میں ان کو ظاہر کیا ہے کہ جنہیں ہر انسان اپنے پر چسپاں کر سکے مثلاً یہ کہ اسماء کی نسبت نہیںبتایا کہ وہ کیا تھے؟ نہ شجرہ کی نسبت بیان کیا کہ وہ کونسا تھا ؟پھر جہاں آدم کو بہکانے والے کا ذکر ہے وہاں ابلیس کی جگہ شیطان کا لفظ رکھ کر بتا دیا ہے کہ ابلیس کے اضلال چاروں طرف موجود ہیں تایہ واقعہ لوگوں کے لئے نصیحت اور فائدہ کا موجب ہو اور ایسا نہ ہو کہ وہ ایک قصے کے طور پر اسے پڑھیں۔ہر ایک انسان جو پیدا ہوتا ہے وہ آدم ہے۔ملائکہ کو جو دنیا کے رُوحانی نظم و نسق کو قائم رکھنے کے لئے ایک واسطہ کے طور پر پیدا کئے گئے ہیں انہیں اس کی مدد کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ملائکہ جن اشیاء کے نگران ہیں وہ سب انسان کی مدد کرتی اور اس کی زندگی کو بہ آرام بنانے میں کار آمد ہوتی ہیں۔لیکن بعض شریر لوگ دوسرے بھائیوں کا سکھ نہیں دیکھ سکتے۔وہ شیطان بن کر ان کو اس رُوحانی جنت سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہر ایک انسان کو اس کی پیدائش سے ملا ہے اور بہت کچھ دُکھ دیتے ہیں۔لیکن وہ جو آدم کی طرح اپنے رب کے حضور جھکتا ہے اور اس سے اپنی مصیبت کے دُور کرنے کی التجا کرتا ہے آخر کامیاب ہو جاتا ہے اور ہر خوف و حزن کی