تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 507

حد سے باہر نکل جاتا ہے لیکن جو لوگ آدم کے نقشِ قدم پر نہیں چلتے بلکہ ابتلائوں میں اُن کے قدم لڑکھڑا جاتے ہیں اور شیطان سے صلح کر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو ردّ کر دیتے ہیں وہ دُکھ میں پڑ جاتے اور ہلاک ہو جاتے ہیں۔ہر ایک سورج جو چڑھتا ہے اس واقعہ کو بار بار دُہرا رہا ہے۔لیکن نادان انسان جو خود ہزاروں خطرناک بدیوں میں مبتلا ہوتا ہے آدم پر اظہار افسوس کرتا ہے کہ اس نے شیطان کا کہنا کیوں مانا؟ حالانکہ آدم بھول کر ایک غلطی کا مرتکب ہوا تھا اور یہ معترض اپنے دل میں شیطان کو لئے بیٹھا ہوتا ہے اور آدم پر اعتراض کرتے ہوئے نہیں شرماتا۔بعض مفسرین نے اصل حقیقت سے قطع نظر کر کے اس جگہ عجیب عجیب قصے ّبیان کئے ہیں جن کی صحت کا ثبوت نہ قرآن مجید سے ملتا ہے نہ احادیث صحیحہ سے پس ان کی طرف توجہ نہیں ہونی چاہیے اور نہ غیرمذاہب کی طرف سے ان کی بناء پر کوئی اعتراض قرآن مجید پر آ سکتا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کے واقعہ میں آنحضرت صلعم کے دعویٰ کی طرف لطیف طور پر توجہ کا مبذول کرانا مذکورہ بالا آیات میں حضرت آدم علیہ السلام کے واقعہ سے علاوہ انسان کو اس کے ذاتی حالات کی طرف توجہ دلانے کے جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کی طرف بھی لطیف طور پر توجہ دلائی گئی ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ (۱) الہامِ الٰہی میں انسانی برتری کا ذریعہ ہے۔بشر کو دوسرے حیوانات پر فضیلت الہامِ الٰہی کے ذریعہ سے ہی ملی پس جو اقوام الہام الٰہی سے محروم ہیں یا اس کی قدر نہیں کرتیں وہ حیوانیت کو انسانیت پر ترجیح دینے کی مجرم ہیں۔اور تمدنی ترقی کے راستہ میں روک ثابت ہو رہی ہیں اور ہوںگی۔وہی لوگ تمد ّنی ترقی کا موجب ہوتے ہیں جو آسمانی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔اس زمانہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہنے والے ایک جدید اور مفید تمدّن کی بنیاد رکھیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اللہ تعالیٰ کی قدیم سنت کے مطابق اس جدید رُوحانی سلسلہ کے متبع ایک جدید اور عظیم الشان تمدن کے بانی ہوئے۔موجودہ مغربی تمدّن گو بہت شاندار نظر آتا ہے مگر وہ بہت حد تک اسلامی تمدّن کا خوشہ چین ہے اور جس حد تک وہ اس کے خلاف چلا ہے امن کا موجب نہیں ہوا بلکہ فساد اور خونریزی کا موجب ہوا ہے (۲) جب بھی کوئی نئی اصلاح دنیا کے لوگوں کے سامنے آتی ہے دنیا اس کی مخالفت کرتی ہے۔وہ ایسی عظیم الشان ہوتی ہے کہ شروع شروع میں نیکوکار بھی اس کی گہرائیوں اور تاثیروں کو نہیں سمجھ سکتے۔اسلام کے ظہور کے وقت میں ایسا ہی ہونا لازمی ہے چنانچہ ایسا ہی ہوا (۳) نیک لوگ بعد میں اپنی غلطی تسلیم کر لیتے ہیں اور اس کی عظمت کے قائل ہو جاتے اور اس کی تائید میں لگ جاتے ہیں لیکن شریر مخالف مقابلہ شروع کر دیتے ہیں۔ایسا ہی اسلام سے ہوا اور ہو گا چنانچہ تمام نیک فطرت لوگ ایک ایک کر کے اسلام میں داخل ہوئے اور