تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 503

سے جا کر ملتا ہے اور تَلَقَّی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمَاتٍ کے معنے ہیں اَخَذَ ھَا عَنْہُ کہ حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے کلمات لئے وَقِیْلَ تَعَلَّمَہَا بعض نے اس کا پورا مفہوم یُوں ادا کیا ہے کہ انہوں نے سیکھے۔(لسان) اقرب میں لکھا ہے کہ تَلَقَّی الشَّیْءَ کے معنے ہیں لَقِیَہٗ کسی کو آگے جا کر ملا (کسی چیز کو آگے جا کر لیا) اورجب تَلَقَّی الشَّیْئَ مِنْہُ کہیں تو اس کے معنے ہوں گے تَلَقَّنَہٗ کسی کے منہ سے کوئی بات بالمشافہ سن کر اخذ کی اور اس کو ضبط کر لیا (اقرب) پس فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ کے معنے ہوں گے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے کچھ دعائیہ کلمات بذریعہ الہام سیکھے۔کَلِمٰتٌ۔کَلِمَۃٌ کی جمع ہے اور اس کے معنے ہیں اَللَّفْظَۃُ منہ سے بولا ہوا مفرد لفظ وَکُلُّ مَایَنْطِقُ بِہِ الْاِنْسَانُ مُفْرَدًا کَانَ اَوْ مُرَکَّبًا نیز ہر اس بات پر بھی جو انسان بولے خواہ وہ مفرد ہو یا مرکب کَلِمَۃٌ کا لفظ بولا جاتا ہے۔کَلِمَۃٌ کے ایک معنے اَلْخُطْبَۃُ وَالقَصِیْدَۃُ کے بھی ہیں۔یعنی خطبہ اور قصیدہ۔(اقرب) تَابَ۔تَابَ اِلَیْہِ وَعَلَیْہِ کے معنے ہیں رَجَعَ عَلَیْہِ بِفَضْلِہٖ اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوا۔(اقرب) تَوَّابٌ۔تَوَّابٌ مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے معنے ہیں فضل کے ساتھ بہت متوجہ ہونے والا۔اَلرَّحِیْمُ۔اس کے لئے دیکھو حَلّ لُغات سورۃ الفاتحۃ آیت۳۔تفسیر۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت آدم کو شیطان نے دھوکا دے دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی غلطی سے آگاہ کیا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کی رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ (الاعراف:۲۴) یعنی اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔اور اگرتو ہماری غلطی کو معاف نہ فرمائے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم گھاٹا پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔پس معلوم ہوتا ہے کہ یہی دعا انہوں نے سیکھی تھی۔فَتَابَ عَلَیْہِ میں اس طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے رحم کی جاذب زیادہ تر الہامی دعائیں ہوتی ہیں اس آیت میں ایک اور لطیف بات بتائی گئی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے رحم اور فضل کی جاذب زیادہ تر وہی دعائیں ہوتی ہیں جو وہ خود سکھلاتا ہے۔بہت سے انسان اپنی طرف سے دعائیں بناتے ہیں لیکن وہ ایسی ناقص اور َلغو ہوتی ہیں کہ بعض اوقات وہ دعائوں کی بجائے بد دعائوں کا مفہوم ادا کرتی ہیں اس سے ہمارا یہ مطلب نہیں کہ انسان اپنے الفاظ میں دعا مانگے ہی نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ایسا مضبوط تعلق پیدا