تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 500
کو شجرۂ ممنوعہ کے قریب لے جانے کے لئے کہا کہ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَيْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِيْنَ (الاعراف :۲۱) یعنی شیطان نے آدم علیہ السلام سے کہا کہ آپ کو شجرۂ ممنوعہ سے بچنے کی حکمت پر غور کرنا چاہیے صرف حکم کے ظاہری الفاظ کو نہیں دیکھنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ اس شجرہ سے بچ کر آپ فرشتے ہو جائیں اور ہمیشہ کی زندگی پائیں پس جب یہ حکم آپ کو نیک بنانے اور دائمی زندگی دینے کے لئے تھا تو اب اگر اس شجرہ کے قریب جانے سے وہی غرض پوری ہوتی ہو تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی رُوح کو مقدم رکھتے ہوئے اب آپ کو اس کے قریب جانے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے اور اس کے قریب جانے کو ہی منشائے الٰہی کو پُورا کرنے والا سمجھنا چاہیے چنانچہ دوسری جگہ اس کی تشریح یُوں آتی ہے فَوَسْوَسَ اِلَيْهِ الشَّيْطٰنُ قَالَ يٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا يَبْلٰى (طٰہٰ :۱۲۱) یعنی شیطان نے آدم علیہ السلام کو یہ دھوکا دیا کہ اے آدم !کیا تم کو وہ درخت بتائوں جو دائمی زندگی بخشنے والا ہے اور ایسی بادشاہت بخشے گا جو کبھی تباہ نہ ہو گی؟ (یعنے فرشتوں جیسی زندگی جو کبھی تنزل کی طرف نہیں جاتے)۔سورۂ اعراف کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے اس امر کو آدم علیہ السلام کے سامنے رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس درخت سے اس لئے روکا تھا کہ تا اس سے رُک کر آپ فرشتے ہو جائیں اور دائمی زندگی پائیں اورطٰہٰ کی آیت بتاتی ہے کہ اس درخت کے قریب لے جانے کے لئے اس نے کہا کہ اس کے قریب جا کر آپ دائمی زندگی پائیںگے۔ان دونوں آیتوں کو ملا کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کا فریب یہی تھا کہ اس نے ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی بات کی تصدیق کر کے آدم علیہ السلام کے سامنے اپنے ایمان کا ثبوت دیا دوسری طرف اجتہاد کی آڑ لے کر یہ بتایا کہ اب حالات بدل گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی غرض اور اس کا منشاء اس درخت سے دُور رہ کر نہیں بلکہ اس کے قریب جاکر پُورا ہوتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے منشاء کو پورا کرنے کے لئے اور اس کے حکم کی رُوح کو مقدم رکھتے ہوئے اب آپ کو اس درخت کے قریب جانا چاہیے۔آدم علیہ السلام اس کے اس دھوکے میں آ گئے اور اس کی بات کو مان لیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنت دُکھ کا مقام بن گئی۔ظاہر ہے کہ اس قسم کا دھوکا بعض باریک مسائل کے متعلق خواص کو بھی لگ سکتا ہے اور آدم علیہ السلام تو پہلے نبی تھے۔ان سے پہلے اسی قسم کی مثالیں عبرت کے لئے موجود نہ تھیں بلکہ بالکل ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آئندہ لوگوں کی عبرت کے لئے ان سے اس غلطی کے صدور کو روا رکھا ہو۔ہمارے زمانہ میں بھی عام مسلمان باوجود پہلی قوموں میں عبرت کی مثالوں کے موجود ہونے کے اس قسم کے اجتہادوں سے دھوکا کھا رہے ہیں مثلاً تاجروں کو بعض علماء یہ دھوکا دیتے ہیں کہ سوُد جو اسلام نے منع کیا تھا وہ وہ سود نہ