تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 496
عَنْھَاکی ضمیر شجرہ کی طرف پھیرنے سے عَنْکے معنے سببیّت کے ہوتے ہیں عَنْکے معنے سببیّت کے عربی زب<mark>ان</mark> میں عام ہیں۔لُغت میں لکھا ہے اَلرَّابِعُ التَّعْلِیْلُ نَحْوَ وَمَا کَ<mark>ان</mark>َ اسْتِغْفَارُ اِبْرَاھِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ (اقرب) یعنی چوتھے معنے عَنْ کے تعلیل کے ہوتے ہیں جیسے کہ قرآن کریم میں آتا ہے وَ مَا كَ<mark>ان</mark>َ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ (التوبة:۱۱۴) جس کے معنے یہ ہیں کہ ابراہیم نے جو استغفار اپنے باپ کے لئے کیا تھا وہ صرف ایک وعدہ کے سبب سے تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے۔<mark>ان</mark> معنوں کو مد<mark>نظر</mark> رکھتے ہوئے عَنْہَاکے معنے یہ ہوںگے کہ شَجَرَۃ کو سبب اور ذریعہ بنا کر شیط<mark>ان</mark> نے حضرت آدم کے قدم کو بغیر اس کے کہ <mark>ان</mark> کا اپنا ارادہ ہوتا پھسلا دیا۔فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَ<mark>ان</mark>َا فِيْهِ۔اور اس طرح جس حالتِ امن میں وہ تھے اس سے <mark>ان</mark>ہیں نکال دیا یا یہ کہ جس جنت میں وہ تھے وہاں سے <mark>ان</mark>ہیں نکال دیا۔مگر پہلے معنے زیادہ درست ہیں کیونکہ جنت میں سے نکلنے کا حکم اس کے بعد دیا گیا ہے ہاں اگر یہ مطلب لیا جائے کہ جنت میں سے نکالے ج<mark>ان</mark>ے کا مستحق بنا دیا تو <mark>دوسرے</mark> معنے بھی درست ہو سکتے ہیں۔قُلْنَا اهْبِطُوْاکی تشریح وَقُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْہَا۔اور ہم نے کہا کہ جائو تم میں سے <mark>بعض</mark> <mark>بعض</mark> کے دشمن ہوں گے یعنی اس دشمنی کو یہیں ختم نہ سمجھنا یہ دشمنی آئندہ جاری رہے گی اور ہر نبی کے وقت میں پھر شیط<mark>ان</mark> اسی طرح حملہ کرنے کی کوشش کیا کرے گا۔وَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ میں مومنوں کو اپنی اولاد کو شیط<mark>ان</mark> سے بچاتے رہنے کا حکم وَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ۔یعنی اسی زمین میں تم کو رہنا اور فائدہ اُٹھ<mark>ان</mark>ا ہے پس ہوشیاری سے کام کرنا۔شیط<mark>ان</mark> کی ذرّیت سے الگ ہو کر رہنے کی کوئی صورت نہیں اس کے ساتھ ہی رہنا ہو گا۔پس ہر وقت چوکس رہنے کی کوشش کرو۔<mark>دوسرے</mark> یہ زندگی آئندہ زندگی کے لئے سام<mark>ان</mark> جمع کرنے کا ذریعہ ہے اس سے غافل نہ رہو اور دوسری زندگی کے لئے سام<mark>ان</mark> جمع کرتے رہو۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ مومن و کافر نیک اور بد کو ایک ہی جگہ رہنا پڑتا ہے اس لئے مومنوں اور نیکوں کو اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو شیط<mark>ان</mark> کے حملہ سے بچ<mark>ان</mark>ے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔یہ حکم ایسا ضروری ہے کہ اسے <mark>نظر</mark> <mark>ان</mark>داز کرنے کی وجہ ہی سے ہمیشہ نیکی کا زم<mark>ان</mark>ہ مٹ جایا کرتا ہے۔جب بھی مومن اور نیک یہ سمجھتے ہیں کہ وہ شیط<mark>ان</mark>ی حملہ سے محفوظ ہو گئے ہیں تنزّل کا دور شروع ہو جاتا ہے اور شیط<mark>ان</mark> غالب آنے لگ جاتا ہے۔کاش کوئی قوم ایسی پیدا