تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 489
گناہ کو جڑ سے اُکھیڑنے میںممد ہے۔اس وقت دنیا میں جو جھگڑا اور فساد پھیلا ہوا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ <mark>بعض</mark> افراد تو مالا مال ہیں اور <mark>دوسرے</mark> بھوکے مر رہے ہیں اگر سب دنیا میں ایسا نظام قائم ہو جائے کہ ہر شخص کو اس کی ضروریاتِ زندگی سہولت سے مل جائیں تو لڑائی جھگڑے کی جڑ کٹ جائے۔حَیْثُ شِئْتُمَامیں <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark>ی تمدّن کے کمال کے ایک ضروری جزو کی طرف اشارہ حَیْثُ شِئْتُمَا جہاں چاہو کے الفاظ سے یہ بتایا ہے کہ <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark>ی تمدن کے کمال کا ایک ضروری جزو یہ بھی ہے کہ <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کو سفر اور اقامت کی سہولت حاصل ہو۔اور اس پر سے غیر ضروری پابندیاں اُٹھا دی جائیں۔موجودہ زم<mark>ان</mark>ہ کے فسادات کی ایک بڑی وجہ اس حکم کی طرف سے عدمِ اِعتنا بھی ہے۔مختلف اقوام ایک <mark>دوسرے</mark> کے خلاف پابندیاں لگاتی ہیں کہ فلاں قوم ہمارے ملک میں نہ آئے یا ہمارے ملک میں نہ رہے اور اس طرح خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو اپنے لئے مخصوص کرنا چاہتی ہیں حال<mark>ان</mark>کہ اللہ تعالیٰ نے سب دنیا کو سب <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark>و ںکے لئے پیدا کیا ہے اور اس قسم کی روکیں پیدا کر کے دوسروں کو خدائی نعمتوں سے محروم کرنا بڑا گناہ ہے اس وقت <mark>بعض</mark> بڑے بڑے برِّاعظموں میں صرف چند لاکھ آدمی رہ رہے ہیں اور دوسروں کو <mark>ان</mark> ممالک میں آ کر بسنے سے روکا جاتا ہے۔ہندوست<mark>ان</mark> میں چالیس کروڑ کے قریب آبادی ہے اور آسٹریلیا جو اُس سے دُگنے کے قریب ہے اس میں کل سترّ لاکھ آبادی ہے۔لیکن ہندوست<mark>ان</mark>یوں کو اس میں جا کر بسنے سے روکا جاتا ہے اسی طرح جنوبی افریقہ میں ہندوست<mark>ان</mark>یوں کو کامل شہری کے حقوق حاصل نہیں بلکہ اس ملک کے قدیم باشندو ںکو بھی یہ حقوق حاصل نہیں چن<mark>ان</mark>چہ ہندوست<mark>ان</mark> کے موجودہ سیاسی لیڈر گ<mark>ان</mark>دھی جی کی تمام طاقت کی بنیاد <mark>ان</mark>ہی زخمی جذبات پر ہے جو جنوبی افریقہ کی رہائش کے ایام میں <mark>ان</mark> کے دل میں پیدا ہوئے۔اسلام کسی قوم کو کسی ملک میں جاکر بسنے سے نہیں روکتا اس قسم کے امتیاز سے دلوں میں ُبغض اور کشیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔اسلام نے آدم علیہ السلام کے زم<mark>ان</mark>ہ سے ہی اس قسم کی پابندیوں سے منع فرمایا ہے۔اور تمام بنی نوع <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کو دنیا سے یکساں فائدہ اُٹھ<mark>ان</mark>ے کی اجازت دی ہے کاش لوگ اس تعلیم پر عمل کرتے اور ُبغض اور فساد کا قلع قمع ہو کر یہ دنیا جو اس وقت <mark>بعض</mark> لوگوں کے لئے جہنم بن رہی ہے سب کے لئے جنت بن جاتی۔شاید اس جگہ کسی کے دل میں یہ ُشبہ پیدا ہو کہ اسلام نے بھی تو حجاز میں <mark>دوسرے</mark> مذاہب کے لوگوں کا داخلہ منع کیا ہے؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک اسلام نے حجاز میں <mark>دوسرے</mark> مذاہب کے لوگو ںکا داخلہ منع کیا ہے لیکن اس کا اثر دنیا کے اقتصادی معاملات پر نہیں پڑتا۔حجاز ایک وادی غیر ذِی زَرعٍ ہے جہاں نہ کچھ پیدا ہوتا ہے نہ اُگتا ہے پس اس علاقہ کے ساتھ دنیا کے کھ<mark>ان</mark>ے پینے کا تعلق نہیں۔جس علاقہ میں نہ فصل ہوتی ہو نہ میٹھا پ<mark>ان</mark>ی ملتا ہو، اقتصادی