تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 485

معنے ہوںگے کہ خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے لئے انسان کو کھانے پینے اور پہننے میں اسراف کرنا چاہیے اس کے بعد اسے اعلیٰ زندگی مل سکتی ہے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ سب انبیاء اور کامل مومن خدا تعالیٰ کو پانے سے پہلے اسراف کرتے اور حدِّ اعتدال سے بڑھتے ہیںاور یہ بھی بالبداہت باطل ہے۔پس ابلیس کی یہ تشریح کہ وہ سفلی زندگی کا مظہر ہے اور اس میں سے ہو کر خدا تعالیٰ تک پہنچا جا سکتا ہے ایک غلط عقیدہ ہے اور قرآن کی تعلیم کے خلاف ہے۔وَ قُلْنَا يٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا اور ہم نے (آدم سے )کہا(کہ) آدم تو اور تیری بیوی جنت میں رہو اور اس میں رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ سے جہاں سے چاہو بافراغت کھاؤ مگر اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم الظّٰلِمِيْنَ۰۰۳۶ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔حَلّ لُغَات۔اُسْکُنْ۔اُسْکُنْ واحد امر مخاطب کا صیغہ ہے اور سَکَنَ (یَسْکُنُ) سُکُوْنًا کے معنے ہیں قَرَّکسی جگہ قرار پکڑا۔ٹھہر گیا۔سَکَنَ فُـلَانٌ دَارَہٗ کے معنے ہیں اِسْتَوْطَنَہَا وَ اَقَامَ بِھَا وہ اپنے گھر میں قیام پذیر ہوا۔رہ پڑا اور بس گیا (اقرب) پس اُسْکُنْ کے معنے ہوں گے رہو۔زَوْجُکَ۔زَوْجٌ کے معنے کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۲۶۔اَلْجَنَّۃُ۔اَلْجَنَّۃُ کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۲۶۔رَغَدًا۔رَغَدَ عَیْشُہٗ رَغَدًا کے معنے ہیں طَابَ وَا تَّسَعَ اس کے لئے زندگی کے سامان وسیع طور پر اور بافراغت مہیّا ہو گئے۔(اقرب) تاج العروس میں ہے اَلرَّغَدُ: اَلْکَثِیْرُ الْوَاسِعُ الَّذِیْ لَایُعْیِیْکَ مِنْ مَّالٍ اَوْمَآءٍ اَوْ عَیْشٍ اَوْکَلَإٍ ضروریات زندگی کا سہولت اور کثرت کے ساتھ مل جانا رَغَد کہلاتا ہے۔(تاج) حَیْثُ۔حَیْثُ ظرف ِمکان ہے یعنی یہ بتاتا ہے کہ کوئی کام کس جگہ واقع ہوا ہے۔جمہور علماء کے نزدیک اس