تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 43

کی آیت کامل تو کل پر دلالت کرتی ہے۔یعنی اس میں یہ اشارہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو آخری نتائج کا مرتب کرنے والا قرار دے کر جب اَلْـحَمْدُ کہتا ہے تو گویا وہ اس امر پر اطمینان کا اظہار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ درست ہے اور مجھے منظور ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ پر اس طرح تو کل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کیوں نہ اس سے بخشش اور نرمی کا معاملہ کرے۔سوم یہ کہ اس سورۃ میں جن انعامات کے حصول کے لئے دعا سکھائی گئی ہے وہ مسلمانوں کو بحیثیت قوم ضرور ملیں گے کیونکہ اس دُعا کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ لِعَبْدِیْ مَا سَأَلَ میرے بندہ نے جو کچھ مانگا ہے اُسے ضرور ملے گا۔نَعْبُدُ کو نَسْتَعِیْنُ سے پہلے لانے کی دو وجوہات اس آیت میں نَعْبُدُ پہلے آیا ہےاور نَسْتَعِیْنُ بعد میں۔بعض لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کی توفیق تو اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہی حاصل ہو سکتی ہے پھرنَعْبُدُ کو پہلے کیو ںرکھا۔نَسْتَعِیْنُ پہلے چاہیے تھا۔اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک عبادت بھی اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہوتی ہے لیکن اس جگہ اِعَانَتْ کا ذکر نہیں بلکہ اِسْتِعَانَت کا ذکر ہے۔یعنی مدد مانگنے کا۔اور اس میں کیا شک ہے کہ جب بندہ کے دل میں عبودیت اور عبادت کا خیال پیدا ہو گا۔اس کے بعد ہی وہ اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگنے کا خیال کرے گا۔جو عبادت کی طرف راغب ہی نہ ہو وہ مدد کیوں طلب کرے گا؟ پس گو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اعانت کے بغیر عبادت کی توفیق نہیں ملتی لیکن استعانت یعنی بندہ کا اللہ تعالیٰ کے دروازہ پرجُھکنا عباد ت کا خیال آنے کے بعد ہی پیدا ہوتا ہے۔اس وجہ سے نَعْبُدُ کو پہلے اور نَسْتَعِیْنُ کو بعد میں رکھا گیا ہے۔دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ ارادہ بندہ کی طرف سے ہوتا ہے اور عمل کی توفیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔اگر ارادہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو تو انسان کے اعمال اضطراری اعمال ہو جائیں۔پس اس آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ جب بندہ کے دل میں عبادت کا خیال پیدا ہو۔اسے اللہ تعالیٰ سے تکمیل ارادہ کے لئے دُعا کرنی چاہیے اور کہنا چاہیے کہ اے میرے رب !میں تیری عبادت کا فیصلہ کر چکا ہوں۔مگر اس عہد کی تکمیل تیری امداد کے سوا نہیں ہو سکتی اس لئے تو میری مدد کر او رمجھے اس امر کی توفیق دے کہ تیرے سوا کسی کی عبادت نہ کروں۔عبادت کا حقیقی مفہوم عبادت کامل تذلّل کا نام ہے۔پس عبادت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو بندہ اپنے اندر پیدا کر لے۔عبادت کی ظاہری علامات صرف قلبی کیفیت کو بدلنے کے لئے مقرر ہیں ورنہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عبادت دل کی کیفیت اور اس کے ماتحت انسانی اعمال کے صدور کا نام ہے اور خاص اوقات کی تعیین اور قبلہ رُو ہونا اور ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا یا رکوع سجود کرنا یہ اصل عبادت نہیں بلکہ جسم کی ظاہری حالت کا اثر چونکہ دل پر