تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 42

انسان غور کرتا ہے۔تو اس کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی محبت شدید طور پر اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے تب وہ روحانی طو رپر اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف اور اس کی محبت سے مغلوب ہو کر بے اختیار چِلّا اٹھتا ہے کہ اے رب! میں تیری ہی عبادت کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں۔پس اس طرح ضمائر کو بدل کر اس مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔کہ قرآن کریم میں بتائی ہوئی صفات پر غور کرنے سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی ملاقات حاصل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات بندہ کے سامنے آ جاتی ہے۔حدیث میں آتا ہے عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اللّٰہُ قَسَمْتُ الصَّلٰوۃَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ عَبْدِیْ نِصْفَیْنِ فَنِصْفُھَا لِیْ وَ نِصْفُھَا لِعَبْدِیْ وَ لِعَبْدِیْ مَا سَأَلَ فَاِذَا قَالَ الْعَبْدُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ قَالَ اللّٰہُ حَمَدَنِیْ عَبْدِیْ وَ اِذَا قَالَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۔قَالَ اثْنٰی عَلَیَّ عَبْدِیْ وَ اِذَا قَالَ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ قَالَ مَجَدَنِیْ عَبْدِیْ وَ رُبَمَا قَالَ فَوَّضَ اِلَیَّ عَبْدِیْ وَاِذَا قَالَ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ قَالَ ھٰذَا بَیْنِیْ وَ بَیْنَ عَبْدِیْ وَ لِعَبْدِیْ مَاسَأَلَ وَ اِذَا قَالَ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ الخ (الٰی اٰخِرِسُوْرَۃٍ) قَالَ ھٰذَا لِعَبْدِیْ وَ لِعَبْدِیْ مَاسَأَلَ (مسلم کتاب الصَّلٰوۃ باب وجوب قراء ۃ الفاتحۃ فی کل رکعۃ) یعنی حضرت ابوہریرۃ ؓفرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔میں نے سورۃ فاتحہ کو اپنے اور اپنے بندہ کے درمیان تقسیم کر دیا ہے۔پس اس کا نصف میرے لئے ہے اور نصف میرے بندے کے لئے ہے۔اور میرا بندہ جو کچھ مجھ سے (اس کے ذریعہ سے طلب کرتا ہے) وہ میں اُسے دُوںگا۔جب بندہ کہتا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے میری حمد کی۔اور جب بندہ کہتا ہے الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے میری ثنا کی ہے۔او رجب بندہ کہتا ہے مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ہے اور بعض دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے اپنا معاملہ میرے سپرد کر دیا ہے۔اورجب بندہ کہتا ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان مشترک ہے اور میرے بندے نے جو کچھ مانگا ہے میں اُسے دُوںگا۔پھر جب بندہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ سے لے کر آخر تک کی آیات پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔یہ دعا میرے بندے کے لئے ہے اور یہ سب کچھ میرے بندہ کو ملے گا۔اس حدیث سے مندرجہ ذیل امو رکا استنباط ہوتا ہے۔اوّل حمد، ثنا اور تمجید میں فرق ہے۔دوم مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ