تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 479
نیکی کا مادہ کم ہو گیا اور بدی کی طاقتیں زیادہ ہو گئیں۔جس کی ہمت ٹوٹ گئی اور ناکامی کے غم نے اسے دبا لیاجو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو گیا۔جس نے اپنے مقاصد کے پانے کے لئے کوئی راستہ کھلا نہ پایا اور حیران رہ گیا۔ابلیس کا صفاتی نام ان معنو ںکو مدِّنظر رکھتے ہوئے یہ سمجھ میں آ سکتا ہے کہ یا تو یہ نام صفاتی طور پر کسی ایسی رُوح کو دیا گیا ہے جو اس قسم کی کیفیات اپنے اندر رکھتی ہے اوریا پھر یہ صفاتی نام کسی ایسے انسان کا ہے جس کا نام خواہ کچھ ہو مگر اس کی دلی کیفیت کے لحاظ سے وہ اس قسم کے نام پانے کا مستحق تھا اور قرآن کریم نے اسے یہ نام دیا ہے۔قرآن کریم میں ابلیس اور شیطان کے الفاظ کے استعمال میں ایک خاص امتیاز قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس کا نام قرآن کریم میں گیارہ جگہوں میں آتا ہے (۱) یہی مقام جس کی تفسیر لکھی جا رہی ہے (۲) اعراف (۳ و ۴) حجر دو دفعہ (۵) بنی اسرائیل (۶) کہف (۷) طٰہٰ (۸) شعراء (۹) سبا (۱۰ و ۱۱) صٓ۔ان گیارہ مقامات میں سے سوائے شعراء اور سباء کے باقی سب جگہ آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کے ذکر میں ابلیس کا ذکر آتا ہے باقی دو جگہوں میں آدم کے سجدہ کا ذکر نہیں۔سورۃ شعراء میں یہ ذکر ہے کہ ابلیس کے سب تابع جہنم میںجائیں گے اور سورۂ سباء میں یہ ذکر ہے کہ سباء کی قوم نے ابلیس کے گمان کو پورا کر دیا یعنی ابلیس نے انہیں اپنا شکار سمجھا اور وہ اس کا شکار بن گئے۔بہرحال جہاں آدم کا ذکر ہے وہاں سجدہ نہ کرنے کے موقع پر ہر جگہ ابلیس کا لفظ استعمال ہوا۔اس کے مقابل پر آدم کو ورغلانے کی کوشش کا جہاں ذکر ہے وہاں ہر جگہ ہی شیطان کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کسی ایک جگہ بھی ابلیس کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔اس فرق سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم نے ابلیس اور شیطان کے الفاظ کے استعمال میں ایک خاص امتیاز سے کام لیا ہے اور یہ امتیاز بتاتا ہے کہ یہ سجدہ نہ کرنے والا، ابلیس اور آدم کو دُکھ میں ڈالنے کی کوشش کرنے والا شیطان دو الگ وجود ہیں۔جب ہم دیکھتے ہیں کہ آدم کو اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرما دیا تھا کہ ابلیس کی بات کو نہ ماننا یہ تمہارا دشمن ہے تو اس کے بعد آدم کا ابلیس کے دھوکے میں آنا سمجھ میں نہیں آتا چنانچہ سورۂ طٰہٰ میں آتا ہے فَقُلْنَا يٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى (طٰہٰ :۱۱۸) یعنی ہم نے ابلیس کے سجدہ سے انکار کے بعد آدم سے کہہ دیا تھا کہ یہ ابلیس تیرا اور تیری بیوی یا تیرے ساتھیوں کا دشمن ہے۔پس ایسا نہ ہو کہ یہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے اور تو تکلیف میں پڑ جائے۔اس واضح ارشاد کے بعد آدم علیہ السلام ابلیس کے دھوکے میں نہ آسکتے تھے سوائے