تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 478
بول رہے اور قوم کے دشمن ہیں لیکن اپنے دلوں میں یہ خیال کرتے ہیں کہ قوم کو جس مقام تک پہنچانے کے وہ مدعی ہیں اسے حاصل نہیں کیا جا سکتا گویا بظاہر مخالفت کی وجہ تو قوم سے غداری بیان کرتے ہیں اور بہ باطن ان کے دعووں کو ناقابلِ حصول سمجھتے ہیں اور اس مایوسی کی وجہ سے ان قربانیوں کے لئے جو ان کے ساتھ مل کر کرنی پڑتی ہیں اپنے نفوس میں جرأت نہیں پاتے۔(۴) چوتھی وجہ جو ابلیس کے انکار کا سبب ہوئی یہ بیان فرمائی ہے کہ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ ابلیس پہلے سے منکروں میں شامل تھا یعنی صداقتوں کے انکار کی اسے عادت تھی۔یہ وجہ بھی اکثر لوگوں کو صداقت کے قبول کرنے میں روک بنتی ہے۔وہ اچھے اخلاق نہ رکھنے کی وجہ سے اچھی باتو ںکا انکار کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں اور کمزوری اور بزُدلی اور اچھی باتو ںکے ترک کرنے کی عادت کی وجہ سے جب صداقت اُن پر کھل بھی جاتی ہے اسے قبول کرنے کی جرأت نہیں کرتے۔ایسے ہزاروں لوگ ہر زمانہ میں پائے جاتے ہیں کہ صداقت تو ان پر کھل جاتی ہے لیکن جس طرح عنکبوت اپنے گرد خود ایک جالاتن کر اس میں گرفتار ہو جاتا ہے وہ بھی سچائیوں کے انکار کا ایک ایسا جالا اپنے گرد تن چکے ہوتے ہیں کہ باوجود صداقت کا علم ہو جانے کے اسے قبول کرنے کی جرأت اور توفیق نہیں پاتے۔ابلیس میں یہ چاروں عیب جمع تھے۔وہ آدم کی تعلیم کو اپنے مفاد کے خلاف سمجھتا تھا۔وہ آدم سے اپنے آپ کو دنیوی وجاہت میں بڑا سمجھتا تھا اور اس کی اطاعت اس پر گراں گزرتی تھی۔وہ آدم کے مطمح نظر کو ناقابلِ حصول سمجھتا تھا اور اس کے دعاوی کو ایک ہوائی قلعہ خیال کرتا تھا۔وہ اس کے بیان کردہ عقائد کا ایک حد تک قائل تھا لیکن جھوٹ سے ملوث زندگی بسر کرنے کی وجہ سے ان کا قبول کرنا اس کے لئے ناممکن ہو گیا تھا کیونکہ اس کا دل اپنے سابق اعمال کے جال میں پھنس رہا تھا آج بھی صداقتوں کے منکروں کی یہی حالت ہے۔کاش لوگ ان چاروں عیبوں سے پاک ہو کر صداقتوں کو سمجھنے کی کوشش کریں تو انہیں معلوم ہو جائے کہ اس وقت بھی خدا تعالیٰ نے دنیا کے لئے ترقی کا ایک وسیع دروازہ کھولا ہے اور اسلام کے غلبہ کے سامان پیدا کئے ہیں مگر تھوڑے ہیں جو اس موت کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں جس کے بعد انہیں بھی اور اسلام کو بھی نئی زندگی ملے گی۔وہ وقتی قربانیوں پر جان دیتے ہیں اور دائمی قربانی کے دینے سے کتراتے ہیں۔کاش ان کے دل کھل جائیں۔کاش ان کے دلوں کے زنگ دُھل جائیں۔ابلیس کے معنے اِبْلِیْس۔حَلِّ لُغَات میں بتایا جا چکا ہے کہ ابلیس بَلَسَ اور اَبْلَسَ سے بنا ہے۔اَبْلَسَ کے معنی ہیں (۱) نیکی کا مادہ کم ہو گیا (۲) ہمت ٹوٹ گئی اور غمگین ہو گیا (۳) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو گیا (۴) حیران رہ گیا اور اسے کوئی راہ کام کی نظر نہ آئی۔ان معنوں کے رُو سے ابلیس کے معنی ہوئے وہ ہستی جس میں