تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 473
کروجس نے ان کو پیدا کیا ہے پس اس حکم کے ہوتے ہوئے کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرشتو ںکو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں۔بعض لوگ اس پر کہہ دیا کرتے ہیں کہ شائد آدم کے وقت میں سجدہ غیر اللہ کے لئے جائز ہو گا بعد میںمنع ہوا لیکن یہ خیال درست نہیں کیونکہ توحید پر قائم رہنے کا حکم ایک دائمی حکم ہے وقتی حکم نہیں کہ مختلف زمانوں میں بدلتا رہا ہو۔علاوہ ازیں فرشتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ صاف الفاظ میں فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ۠ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ يُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ يَسْجُدُوْنَ (الاعراف :۲۰۷) وہ ہستیاں جو اللہ تعالیٰ کے قرب میں رہتی ہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کو بڑا نہیں سمجھتیں اور اس سے جی نہیں چراتیں وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی رہتی ہیں اور صرف اس کے سامنے سجدہ کرتی ہیں۔فرشتوں کو سجدہ کے حکم کا مطلب اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ ملائکہ کا ہمیشہ سے یہ طریق ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے سجدہ کرتے ہیں اور کسی کے آگے سجدہ نہیں کرتے۔پس جب ملائکہ اور ملائکہ کے نقش قدم پر چلنے والے وجودوں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کبھی بھی خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتے تو یہ کہنا کس طرح درست ہو سکتا ہے کہ کسی وقت اللہ تعالیٰ نے خود حکم دے کر ملائکہ سے غیر اللہ کو سجدہ کروایا اور انہوں نے سجدہ کیا؟ آدم کو سجدہ کرنے کے حکم سے مراد خلافت ِ آدم کی خوشی میں اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے کا حکم جب یہ ثابت ہو گیا کہ غیر اللہ کو سجدہ کرنا قرآنی تعلیم کے خلاف ہے اور یہ بھی کہ ملائکہ نے کبھی بھی کسی غیر اللہ کے سامنے سجدہ نہیںکیا تو اب یہ سوال رہ گیا کہ اس آیت میں سجدہ کے حکم سے کیا مراد ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ (۱) عربی زبان میں گو کبھی لام سَجَدَ کے بعد اس کے معنوں کو تقویت دینے کے لئے بھی آتا ہے اور اس وقت اس کے معنے اس چیز کو سجدہ کرنے کے ہوتے ہیں جیسے فرمایا۔وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ (حٰم السجدة:۳۸) یعنی اللہ کو سجدہ کرو لیکن کبھی لام عام صلہ کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور اس وقت اس کے اپنے مستقل معنے ہوتے ہیں اور وہ معنے علت اور سبب کے ہیں چنانچہ عرب کا مشہور شاعر امرء القیس کہتا ہے ع وَ یَوْمَ عَقَرْتُ لِلْعَذَارٰی مَطِیَّتِیْ (سبعہ معلقات معلقہ امراء القیس) اور یاد کرو اس دن کو جبکہ میں نے کنواری عورتوں کی خاطر اپنی سواری کی اونٹنی ذبح کر دی تھی۔اس جگہ لام تعدیہ کی تقویت کے لئے نہیں آیا بلکہ مستقل معنے دیتا ہے اور وہ سبب اور علت کے معنے ہیں اور مراد یہ ہے کہ میرے اونٹنی ذبح کرنے کا سبب کنواری لڑکیو ںکی دل بستگی کا حصول تھا اسی طرح اسْجُدُوْالِاٰدَمَ کے معنے یہ نہیں کہ آدم کو سجدہ کرو بلکہ یہ معنی ہیں کہ آدم کے خلیفہ بننے