تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 471
سجدہ میں گر جائو۔وَقَوْلُہٗ اُدْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا اَیْ مُتَذَ لِّلِیْنَ مُنْقَادِیْنَ اور قرآن کریم میں جو یہ آیا ہے کہ تم اس دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جائو اس کے معنے بھی یہی ہیں کہ تم فرمانبرداری کرتے ہوئے جائو۔(مفردات) سَجَدَ (یَسْجُدُ) سُجُوْدًاکے معنی ہیں خَضَعَ وَ اِنْحَنٰی اُس نے عاجزی کی اور عجز کا اظہار جھکنے سے کیا۔سَجَدَ الْبَعِیْرُ۔خَفَضَ رَأْسَہٗ اونٹ نے اپنا سر نیچا کیا۔سَجَدَتِ السَّفِیْنَۃُ الرِّیَاحَ : اَطَاعَتْہَا وَمَالَتْ بِمَیْلِہَا کشتی نے ہوا کی پیروی کی اور جدھر کو ہوا اُسے لے گئی اُدھر چل پڑی۔اہلِ عرب کہتے ہیں فُـلَانٌ سَاجِدُ الْمِنْخَرِ اور مراد یہ ہوتی ہے ذَلِیْلٌ خَاضِعٌ کہ فلاں شخص مطیع ہے اور عاجزی کرنے والا ہے (اقرب) پس اُسْجُدُوْا کے معنے ہوں گے اطاعت و فرمانبرداری کرو۔اِلَّا۔اِلَّا حرف استثناء ہے اور اپنے مابعد اسم کو اکثر نصب دیتا ہے۔استثناء دو قسم کاہوتا ہے (۱) متصل جیسے جَائَ نِی الْقَوْمُ اِلَّا زَیْدًا یعنی زید کے سوا باقی سب لوگ میرے پاس آئے (۲) منقطع جیسے مَا جَاءَ نِی الْقَوْمُ اِلَّا حِمَارًا۔یعنی لوگ تو میرے پاس نہیں آئے مگر گدھا آیا ہے۔اِبْلِیْس۔اِبْلِیْس اَبْلَسَ سے بنا ہے اور اَبْلَسَ کے معنے ہیں قَلَّ خَیْرُہٗ ا س سے کسی بھلائی کی توقع کم ہو گئی یعنی بے خیر ہو گیا۔اِنْکَسَرَ وَحَزَنَ شکستہ خاطر ہو گیا۔غمگین ہو گیا۔اور جب اَبْلَسَ مِنْ رَحْمَۃِ اللّٰہِ کہیں تو اس کے یہ معنے ہوں گے یَئِسَ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو گیا (ان معنوں میں لازم معنے کے علاوہ متعدّی معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے چنانچہ کہتے ہیں اَ بْلَسَہٗ غَیْرُہٗ اس کو کسی نے ناامید اور مایوس کر دیا) اور اَبْلَسَ فِیْ اَمْرِہٖ کے معنے ہیں تَحَیَّرَ وہ اپنے معاملہ کے بارہ میں حیرانگی میں پڑ گیا۔اَبْلَسَ فُـلَانٌ کے ایک معنے سَکَتَ غَمًّا کے بھی ہیں یعنی غم و اندوہ کی وجہ سے خاموش ہو گیا (اقرب) پس اِبْلِیْس کے معنے ہوں گے (۱) ایسی ہستی جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو گئی (۲) ایسی ہستی جس سے بھلائی کی امید کم ہو (۳) ایسی ہستی جو اپنے معاملہ میں حیران رہ گئی ہو کہ اُسے کیا کرنا چاہئے (۴) ایسی ہستی جو غم و اندوہ سے بھری رہے۔اَبَـیٰ۔اَبَـٰی اَبَاہُ اِبَاءً وَ اِبَا ءَ ۃً کے معنے ہیں لَمْ یَرْضَہُ اس کو پسند نہ کیا۔(اقرب) امام راغب اپنی کتاب مفردات میں لکھتے ہیں کہ اَ لْاِ بَائُ کے معنی ہیں شِدَّۃُ الْاِمْتِنَاعِ کسی امر سے سختی سے رُکنا (ہر امتناع کو اِبَاء نہیں کہیں گے) (مفردات) مصنف تاج العروس لکھتے ہیں اَبَاہُ۔کَرِھَہٗ کہ اَبٰی کے معنے کسی چیز سے نفرت کرنے کے ہیں نیز لکھا ہے کہ اَلْاِ بَا ءُ: ھُوَ الْاِمْتِنَاعُ عَنِ الشَّیْ ءِ وَالْکَرَاھِیَۃُ لَہٗ بِغَضِّہٖ وَ عَدَمِ مُلَایَمَتِہٖکسی چیز کو ردی اور اپنے