تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 468
وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ۰۰۳۴ میں (اسے بھی)جاتنا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور (اسے بھی )جو تم چھپاتے تھے۔حَلّ لُغَات۔غَیْبٌ تشریح کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۴۔اَلسَّمٰوٰت۔تشریح کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۲۰۔الْاَرض۔تشریح کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۱۲۔تُبْدُوْنَ۔تُبْدُوْنَ اَبْدٰی (یُبْدِیْ) سے مضارع جمع مذکر مخاطب کا صیغہ ہے۔اور بَدَا (یَبْدُوْا) سے جو اس کا مجرّد ہے بنا ہے۔بَدَا الْاَمْرُ کے معنے ہیں ظَھَرَ کوئی امر واضح اور ظاہر ہو گیا۔اور اَبْدَی الْاَمْرَ کے معنے ہیں اَظْھَرَہٗ کسی امر کو ظاہر کیا (اقرب) پس تُبْدُوْنَ کے معنے ہوں گے تم ظاہر کرتے ہو۔تَکْتُمُوْنَ۔تَکْتُمُوْنَ کَتَمَ (یَکْتُمُ کَتْمًا وَ کِتْمَانًا) سے مضارع جمع مخاطب کا صیغہ ہے کَتَمَ الشَّیْ ءَ کے معنی ہیں اَخْفَاہُ اس کو پوشیدہ رکھا۔بعض اوقات کَتَمَ کے دو مفعول آ جاتے ہیں چنانچہ کہتے ہیںکَتَمَ زَیْدَ نالْحَدِیْثَ کہ اس نے زید سے بات کو مخفی رکھا۔اس میں زَیْد اور اَلْحَدِیْثَ دونوں کَتَمَ کے مفعول ہیں (اقرب) نیز اہل عرب کہتے ہیں کَتَمَ الْفَرَسُ الرَّبْوَ اور اس سے مراد یہ لیتے ہیں کہ ضَاقَ مَنْخِرُہٗ عَنْ نَفْسِہٖ کہ گھوڑا جب دوڑتے ہوئے ہانپ گیا اور لمبے سانس لینے لگا تو نتھنوں کے تنگ ہونے کی وجہ سے وہ پوری طرح سانس نہ لے سکا (اقرب) گویا جب کسی چیز کی وضع ایسی ہو کہ وہ کسی بات کے ظاہر کرنے سے قاصر ہو تو اس وقت بھی اس کے متعلق کَتَمَ کا لفظ استعمال کر لیتے ہیں۔مفرداتِ راغب میں امام راغب لکھتے ہیں کہ لَا یَکْتُمُوْنَ اللّٰہَ حَدِیْثًا کے معنی حضرت ابن عباسؓ اور حسنؓ نے یہ کئے ہیں کہ ان کا اللہ تعالیٰ سے کوئی بات نہ چھپا سکنا اس طور پر ہو گا کہ اُن کے جوارح تمام باتوںکو ظاہر کر دیںگے۔(مفردات) گویا آپ ہی آپ جو بات ظاہر ہو جائے وہ خلاف کَتَمَ ہے۔پس جو بات آپ ہی رکی ہوئی ہو اس پر کَتَمَ بولیں گے۔پس تَکْتُمُوْنَ کے دو معنے ہوئے (۱) جو تم چھپاتے ہو (۲) جو تم سے ظاہر نہیں ہو سکتا۔جو چیز باہر آنی تھی وہ بسبب ناقابلیت کے نہیں آ سکتی یعنی تمہاری خِلقت ایسی ہے کہ تم سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔تفسیر۔گو فرشتوں نے اجمالی طور پر انسانی پیدائش کی غرض کو سمجھ لیا تھا مگر دلیل کو مکمل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آدم کو حکم دیا کہ وہ ان کا ملین کے خواص اور خصائص کو جو اس کی امت میں ہونے والے تھے یا اس کی