تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 466

خود راستہ تجویز کرنے کی مقدرت دے دی جائے ضروری ہے ایسے ناقص افراد کے پیدا ہونے کے خطرہ کو بھی جو شر کی طاقتوں کو اختیار کر کے خونریزی اور فساد کریں برداشت کر لیا جائے گا۔اگر یہ مقدرت نہ دی جائے اور اس وجود کو خیر پر مجبور کیا جائے تو وہ صفاتِ الٰہیہ کا مظہر نہیں کہلا سکتا۔صرف ایک بے جان اور بے مقدرت آلہ کار کہلا سکتا ہے۔جواب کی اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد یہ امر آسانی سے سمجھ میں آ سکتا ہے کہ یہ اعتراض کہ جب خدا تعالیٰ نے آدم کو سکھایا اور فرشتوں کو نہ سکھایا تو پھر اس کا یہ پوچھنا کس طرح درست تھا کہ مجھے ان مُسَمّیات کی صفات اورخواص سے اطلاع دو۔درست نہیں۔کیونکہ یہاں تو سوال ہی یہ تھا کہ ایسے وجودوں کی کیا ضرورت ہے جو گناہ بھی کر سکیں گے اور شریعت کے مجرم ہو سکیں گے۔اس سوال کا جواب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا کہ بیشک وہ گناہ کے مرتکب بھی ہو سکیں گے مگر اس مقدرت کے باوجود ان میں سے کاملین کانیکی کو اختیار کرنا اور صفاتِ الٰہیہ کو اپنے وجود سے ظاہر کرنا اور پھر ایک نظام کے ماتحت دوسروں کو نیکی کی راہ پر چلانا ہی تو ان کے مقرب بارگاہ ہونے کا ذریعہ ہو گا اور یہی تو ان کے اعلیٰ کمالات کا ثبوت ہو گا اور جس طرح ان کامل وجودوں کو دکھا کر جو فرشتوں کے دائرہ عمل سے اوپر نکل چکے ہوں اور صفاتِ الٰہیہ کو مجموعی طور پر بہتر رنگ میں ظاہر کرنے والے ہوں۔فرشتوں کو حقیقتِ حال سے آگاہ کیا جا سکتا تھا اور کوئی ذریعہ انہیں حقیقتِ انسانیہ سے آگاہ کرنے کا ممکن نہ تھا۔پس یہ آیات قابلِ اعتراض نہیں بلکہ ان میں ایک اعلیٰ حقیقت ایک ایسے مکمل پیرایہ میں ظاہر کی گئی ہے کہ اس سے بہتر ذریعہ اور ممکن ہی نہیں۔آیت ھٰذا میں فرشتوں کا اللہ تعالیٰ کی صفات اَلْعَلِيْمُ اور اَلْحَكِيْمُ بیان کرنے کا مطلب فرشتوں کا جواب ظاہر کرتا ہے کہ باوجود معترضین کے اعتراض کے جو وہ فرشتوں کی طرف سے کرتے ہیں فرشتوں کی اس جواب سے پوری تسلی ہو گئی اور انہوں نے اقرار کیا کہ ان کا علم محدود ہے اور انسان کا ان کے مقابل پر غیر محدود اور انہوں نے تسلیم کیا کہ اللہ تعالیٰ اَلْعَلِيْمُاور اَلْحَكِيْمُہے یعنی اس کا علم کامل ہے اور اس کا کوئی فعل بلاحکمت نہیں ہوتا۔بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس سے تو یہ نتیجہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ علیم ہے یہ تو نتیجہ نہ نکلا کہ انسان بھی کوئی ذاتی خوبی رکھتا ہے۔اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم کے رو سے او ریہی حقیقت بھی ہے۔حقیقی طور پر ذاتی خوبی تو خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی وجود میں ہے ہی نہیں۔اور فرشتوں نے اپنے پہلے اظہار خیال میں ہی اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کیونکہ انہوں نے شروع میں ہی کہہ دیا تھا کہ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ (البقرۃ:۳۱) پس یہ سوال تو زیر بحث ہی نہیں تھا کہ خدا تعالیٰ کو علم کامل حاصل ہے یا نہیں سوال یہ تھا کہ آیا انسانی پیدائش کی کوئی غرض ہے یا نہیں ؟ اور اسی کا جواب آدم ؑ کو صفاتِ الٰہیہ کا علم دے کر دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم کو سیکھنے کی قابلیت جس