تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 41

گیا۔پس اِیَّاکَ نَعْبُدُ کے معنی ہوئے ہم تجھے عبادت کے لئے مخصوص کرتے ہیں۔نَعْبُدُ۔نَعْبُدُ ہم عبادت کرتے ہیں۔اس کا ماضی عَبَدَ ہے اور اس کے مندرجہ ذیل معنی ہیں۔عَبَدَ اللّٰہَ طَاعَ لَہٗ وَخَضَعَ وَ ذَلَّ وَ خَدَمَہٗ وَالْتَزَمَ شَرَائِعَ دِیْنِہٖ وَ وَحَّدَہٗ (اقرب) یعنی عبد کے معنی ہیں اس کی اطاعت کی اور اس کے حکم کے آگے سر جھکایا اور اس کی خدمت کی اور اس کے دین کے احکام پر مستقل طور پر عمل کرنے لگا اور اس کی توحید کا اقرار کیا۔عبدکے ایک معنی کسی کے نقش قبول کرنے کے ہیں چنانچہ کہتے ہیں طَرِیْقٌ مُّعَبَّدٌ اَیْ مُذَ لَّلٌ ایسا رستہ جو کثرت آمدو رفت سے اس طرح ہو گیاہو کہ پائوں کے نقش قبول کرنے لگ جائے۔پس عبادت ایک ایسی کامل ہستی کی ہو سکتی ہے جو اپنے کمالات میں منفرد ہو اور اس کا کوئی شریک نہ ہو اور جس کی اطاعت اور فرمانبرداری انسان کے لئے ممکن ہو کیونکہ جس کی فرمانبرداری ممکن ہی نہ ہو اس کی عبادت ایک بے معنی لفظ ہو گا۔یہ ظاہر ہے کہ ایسی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے کیونکہ اس کے سوا کوئی نہیں جس کی حقیقی معنوں میں فرمانبرداری کی جا سکے اور جس کی ذات کو چن کر انسان اسی کا ہو جائے اس کے سوا جس کی بھی انسان اطاعت کرے وہ اطاعت محدود ہو گی اور پھر اس کے سوا اور وجود بھی یا اور قانون بھی ایسے ہوں گے جن کی اطاعت پر انسان مجبو رہو گا۔نَسْتَعِیْنُ۔نَسْتَعِیْنُ اِسْتِعَانَۃٌ سے ہے جس کے معنی مدد حاصل کرنے یا طلب کرنے کے ہیں۔پس اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُکے معنے ہوئے ہم مدد طلب کرنے کے لئے تجھے مخصوص کرتے ہیں یعنی اور کسی کو لائق نہیں سمجھتے کہ اس سے مدد طلب کریں۔تفسیر۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ سے لے کر مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ تک کی عبارت سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ بندہ کی نظر سے اوجھل ہے اور وہ اس کی تعریف کر رہا ہے۔لیکن اِیَّاکَ نَعْبُدُ سے یکدم خدا تعالیٰ کو مخاطب کر لیا گیا ہے۔اِیَّاکَ نَعْبُدُ میں ضمیر خطاب لانے کی وجہ بعض نادانوں نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ یہ حسن ِکلام کے خلاف ہے۔حالانکہ یہ حسن ِ کلام کے خلاف نہیں بلکہ حسن ِ کلام کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات وَرَاء ُالوَ رَاء ہے۔وہ بندہ کو نظر نہیں آتی۔اس کی صفات کے ذریعہ سے وہ اسے شناخت کرتا ہے اور اس کے ذکر کے ذریعہ سے وہ اس کے قریب ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کے دل کی آنکھیں اسے دیکھ لیتی ہیں۔ان آیات میں سلوک کے اس نکتہ کو بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ رَبِّ الْعَالَمِیْن۔رَحْمٰن۔رَحِیْم۔مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْن کی صفات پر جب