تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 463

مسمیات دکھا کر دیا تا اس کا نقش گہرا ہو اور پوری کیفیت ذہن میں سما جائے۔اللہ تعالیٰ کے تعلیم دینے کی ایک تازہ مثال اس زمانہ میں بھی پائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ ؑ جنہوںنے کسی باقاعدہ مدرسہ میں تعلیم نہ پائی تھی انہوں نے خدا تعالیٰ کے حکم سے عربی زبان میں کتب لکھنی شروع کیں تو ایک دفعہ انہیں ایک رات میں چالیس ہزار عربی الفاظ سکھائے گئے چنانچہ اس کے بعد انہوں نے دعویٰ سے عربی کتب لکھیں اور دنیا کو چیلنج دیا کہ اس قسم کی فصیح عبارت اور لطیف مضامین پر مشتمل کتب الگ الگ یا مل کر لکھ کر پیش کریں لیکن باوجود اس کے کہ ان کتب کو عربی بلاد میں بھی کثرت سے پھیلایا گیا آج تک کوئی ان کی مثل نہیں لکھ سکا اور یہ معجزہ قرآنی معجزہ کی تائید میں اور اس کے افاضۂ کمال کے ثبوت میں تھا۔اس سوال کا جواب کہ اگر ملائکہ سیکھ نہ سکتے تھے تو ان کو نام بتانے سے کیا فائدہ؟ اس جگہ ایک سوال کا جواب دیا جانا ضروری ہے۔کہا جا سکتا ہے کہ اگرملائکہ سیکھ نہ سکتے تھے تو پھر انہیں نام بتانے سے کیا فائدہ تھا؟ اور اگر وہ سیکھ گئے تو آدم و ملائکہ کی قابلیت کے تفاوت کا مسئلہ غلط ہو گیا۔اس کا جواب یہ ہے کہ آدم کا علم تفصیلی ہے اور ملائکہ کا اجمالی۔اجمالی طور پر کسی شے کا علم ان افراد کو بھی ہو جاتا ہے جو اس کا تفصیلی علم حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوتے ملائکہ کو صرف یہ بات بتانی مقصود تھی کہ آدم اپنی قابلیت سے صفاتِ الٰہیہ کا علم جس رنگ میں حاصل کر سکتا ہے ملائکہ نہیں کر سکتے اور اس قدر بات کا ملین کا وجود پیش کرنے سے ان کی سمجھ میں آ سکتی تھی ورنہ یہ مراد نہیں کہ کاملین کا وجود دیکھنے کے بعد فرشتے تمام صفات الٰہیہ کا تفصیلی علم سیکھ گئے۔قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ انہوں نے کہا تو بے عیب ہے جو (کچھ)تو نے ہمیں سکھایا ہے اس کے سوا ہمیں کسی قسم کا علم نہیں ہے الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ۰۰۳۳ یقیناً تو ہی کامل علم والا (اور ہر قول اور فعل میں ) حکمت کو مدنظر رکھنے والا ہے۔حَلّ لُغَات۔سُبْحَانَکَ۔سُبْحَانَ مصدر ہے اور اس کے معنی عیوب سے پاک سمجھنے اورپاک کرنے کے ہیں۔چنانچہ کہتے ہیں۔سُبْحَانَ اللّٰہِ اَیْ اُبَرِّ ءُ اللّٰہَ مِنَ السُّوْءِ بَرَائَ ۃً کہ میں اللہ تعالیٰ کی ذات کو تمام عیوب سے پاک سمجھتا ہوں (اقرب) مزید تشریح کے لئے دیکھو حَلّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۳۱۔