تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 451
گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ دنیوی تغیرات جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتے ہیں ان کی علت ِ اُولیٰ ملائکہ ہیں اور ان کا ایک کام اللہ تعالیٰ کے مامورین کی قبولیت کا پھیلانا ہے۔چونکہ وہ دنیوی تغیرات کے سربراہ ہوتے ہیں ان کی تائید سے کل کارخانہ عالم مامورین کی تائید میں لگ جاتا ہے اور آسمانی تائیدات کو دیکھ کر سفلی وجود آخر ہدایت پا جاتے ہیں اور ماموروں کو قبول کر لیتے ہیں۔ملائکہ انسان کی مخفی طاقتوں کا نام نہیں خلاصہ یہ کہ ملائکہ روحانی وجود ہیں اور مادی عالم کی پہلی کڑیاں اور اس کے مدَبرّ ہیں اور ان کا وجود درباریوں کے طور پر نہیں ہے بلکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے کارخانۂ عالم کو چلانے کے لئے مختلف اسباب پیدا کئے ہیں اسی طرح انہیں کائناتِ عالم کے تغیرات کے لئے پہلی علّتیں اور ابتدائی اسباب بنایا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے بنائے ہوئے قواعد کے ماتحت دنیا میں تغیرّات پیدا کرتے چلے جاتے ہیں اور ان کی تدبیر سے یہ کارخانۂِ عالم صحیح طور پر مقررہ قوانین کے مطابق چلتا جاتا ہے۔بیشک بوجہ ان کے نظر نہ آنے کے تدبرّ سے کام نہ لینے والے لوگ ان کے وجود کا انکار کرتے ہیں لیکن یہ انکار ایسا ہی ہے جیسا کہ بعض جاہل قانونِ قدرت کے باریک اسباب کو نہ جاننے کی وجہ سے ان کا انکار کر دیتے ہیں چنانچہ اب تک دنیا میںایسے لوگ موجود ہیں جو بیماریوں کے جراثیم کا انکارکرتے ہیں اور انہیں دیوی دیوتائوں کے غصہ اور ناراضگی کی طرف منسوب کرتے رہتے ہیں۔ورنہ جو لوگ روحانیت سے ادنیٰ تعلق بھی رکھتے ہیں انہیں ملائکہ کو دیکھنے کا بھی موقع ملا ہے جیسا کہ انجیل میں حضرت مسیح پر جبریل کے اُترنے کا ذکر آتا ہے اور قرآن کریم میں اور احادیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جبریلِ امین کے اُترنے کا ذکر آتا ہے اور موجودہ زمانہ میں بانی سلسلہ احمدیہؑ نے ملائکہ سے تعلق کا دعویٰ کیا ہے۔راقم سطور بھی اس امر میں خدا تعالیٰ کے فضل سے کسی قدر مشاہدہ رکھتا ہے اور اس ذاتی مشاہدہ کے بعد ہمیشہ ان لوگوں پر حیران ہوتا ہے جو ملائکہ کو صرف انسان کی مخفی طاقتیں قرار دیتے ہیں ذاتی مشاہدات کے بعد ایسے لوگوں کے خیالات کو محض وہم اور عدم علم میں قرار دیا جا سکتا ہے۔ملائکہ کے کاموں، ان کی پیدائش کی غرض، ان سے تعلق رکھنے کے ذرائع اور فوائد اور ایسے ہی بہت سے امور کے متعلق میری کتاب مَلَا ئِکَۃُ اللّٰہ دیکھنی چاہیے۔اس طویل مضمون کو یکجائی طور پر تفسیر میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ہاں! مختلف آیتوں کے ماتحت متعلقہ امور کو بیان کیا جائے گا۔خلاصہ آیت وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ الخ خلاصہ اس آیت کا یہ ہے کہ اس میں پہلی آیات کے اس