تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 39
ہے دوسرے دن اُستاد اس سے خوش ہو جاتا ہے۔اگلے دن پھر سبق یاد کر تا ہے پھر استاد خوش ہو جاتا ہے یہ نتیجہ تو ساتھ کے ساتھ نکلتا رہتا ہے مگر اس محنت کا ایک خوشگوار اثر اس کے دماغ پر پڑتا جاتا ہے اور اس کتابی علم کے علاوہ جو سبق یاد کرنے سے اسے حاصل ہو رہا تھا۔ایک ذہانت، ایک علم کی باریکیوں کے سمجھنے کا ملکہ اس کے دماغ میں پیدا ہوتا چلا جاتا ہے جو ایک دن اسے دنیا کا مرجع اور ممدوح بنا دیتا ہے۔یہ آخری نتائج ایسے باریک طور پر پیدا ہوتے ہیں کہ ساتھی اور دوست بھی اسے دیکھ نہیں سکتے اور اس کی وجہ سمجھ نہیں سکتے۔اس مضمون سے اللہ تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ آخری اور مستقل کامیابی اللہ تعالیٰ کے تعلق سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔بیشک انسان عام قانون کی فرمانبرداری کر کے عزت اور رتبہ حاصل کر لیتا ہے لیکن ایک آخری نتیجہ جو اعمال کی زنجیر کے مکمل ہونے سے پیدا ہوتا ہے اصل میں وہی قابل قدر شے ہے خصوصاً جو موت کے وقت ایمان کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے کہ اسی پر اگلے جہان کی زندگی کا انحصار ہے۔مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ سے یہ مُراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس دُنیاکا مالک نہیں ہے بلکہ اگر اس آیت کے معنی قیامت کے دن کے مالک کے کئے جائیں تب بھی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس دن ظاہری طورپر بھی کوئی مالک نہ ہو گا جیسا کہ فرمایا۔وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ۔ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ۔يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْـًٔا١ؕ وَ الْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ۔(الانفطار:۱۸تا۲۰) یعنی تم کو کیا معلوم کہ یَوْمُ الدّین کیا ہے۔یوم الدّین وہ دن ہے کہ کوئی شخص دوسرے کے کسی کام نہ آسکے گا۔اور صرف خدا تعالیٰ کا حکم جاری ہو گا۔پس مالک سے مراد یہ ہے کہ اس دُنیا میں جو ظاہر میں بادشاہ اور حاکم اور مالک نظر آتے ہیں یہ سلسلہ اگلے جہان میں ختم ہو جائے گا۔اور یہ مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس جہان کا مالک نہیں ہے۔ان چاروں صفات میں اور جس ترتیب سے وہ بیان ہوئی ہیں سلوک کا ایک اعلیٰ نکتہ بیان کیا گیا ہے جب ہم اس امر کو دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کا مقام اعلیٰ ہے اور بندہ کا ادنیٰ تو یہ امر ہمارے لئے واضح ہو جاتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ بندہ کی طرف متوجہ ہو گا تو اوپر سے نیچے کی طرف آئے گا لیکن جب بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرے گا تو نیچے سے اوپرکی طرف جائے گا۔اس نکتہ کو سمجھ لینے کے بعد ان صفات کو دیکھ کر جو سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندہ کی طرف (۱) رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (۲) رحمٰن (۳) رحیم (۴) مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْن کی صفات سے درجہ بدرجہ تنزّل کرتا ہے۔یعنی جب وہ اپنے بندہ پر ظاہر ہونے لگتا ہے۔تو پہلے ربّ العالمین کی صفت کا ظہور ہوتا ہے یعنی وہ ایسے ماحول تیار کرتا ہے جن میں اس کے منظور اور محبوب بندہ کی صحیح نشوونما ہو سکے۔پھر وہ ان سامانوں کو اپنے بندہ