تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 440

او رہر عورت کے پسلی سے پیدا ہونے کا بیان ہے اور ہر عورت کی پیدائش جس طرح ہوتی ہے اسے ہم سب لوگ جانتے ہیں پس مشاہدہ کے خلاف اس حدیث کے یہ معنے ہر گز نہیں کئے جا سکتے کہ عورت پسلی سے پیدا ہوتی ہے بلکہ اس کے معنی وہی ہیں جو اَئمہ ُلغات نے کئے ہیں۔حدیث کی مستند لغت کی کتاب مجمع البحار میں شیخ محمد طاہر صاحب لکھتے ہیں۔فَاِنَّھُنَّ خُلِقْنَ مِنَ الضِّلْعِ اسْتِعَارَ ۃٌ لِلْمِعْوَجِ اَیْ خُلِقْنَ خَلْقًا فِیْہِ الْاِ عْوِجَاجُ (مجمع البحارالانوار زیر لفظ ضِلْعٌ ) یعنی یہ جو حدیث میں آتا ہے کہ عورتیں پسلی سے پیدا کی گئی ہیں یہ کلام استعارہ کی قسم سے ہے اور مراد یہ ہے کہ ان کے اخلاق میں ناز کا پہلو غالب ہوتا ہے یعنی خاوند سے اختلاف کرنے کو ان کا دل طبعاً چاہتا ہے اور یہ امر تجربہ سے ثابت ہے کہ عورت اپنے خاوند سے اختلاف کر کے اس سے اپنی بات منواتی ہے اور اس پر اثر ڈال کر اس پر حکومت کرتی ہے اسی کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے کہ عورت پر جبری حکومت نہ کیا کرو بلکہ محبت سے اسے منوایا کرو اور اس کے احساسات کا خیال رکھا کرو کیونکہ وہ بہت سی باتوں میں مرد کے تابع ہوتی ہے۔طبعاً مرد کے ہر حکم کو پرکھنا چاہتی ہے اور اس سے اختلاف ظاہر کرتی ہے تا حقیقت کو معلوم کرے پس مرد کو بھی چاہیے کہ عورت سے جو بات منوائے دلیل اور محبت سے منوائے۔اگر جبر اور زور سے منوائے گا تو عورت کا دل ٹوٹ جائے گا۔اور اس کا پیار کا تعلق مرد سے نہیں رہے گا۔خلاصہ یہ کہ اوپر کی آیات اور حدیث سے بھی ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آدم پہلے بشر تھے اور یہ کہ ان کے جسم سے ان کی بیوی پیدا کی گئی۔بلکہ آیات اور حدیث دونوں میں تمام بنی نوع انسان کا ذکر بطور قاعدہ کلیہ کے ہے نہ کہ خاص طور پر آدم اور ان کی بیوی کا۔اور جب یہ ثابت ہو گیا تو وہ اعتراض بھی دُور ہو گیا جو بعض لوگ کیا کرتے ہیں کہ جب سب انسان آدم کی اولاد سے ہیں تو کیا آدم کی نسل میں بہن بھائی کی شادی ہوا کرتی تھی کیونکہ یہ اعتراض صرف آدم کی نسل پر پڑ سکتا تھا جو پہلا کامل العقل اور حامل الشریعت انسان تھا لیکن جب اس کے زمانہ میں اور انسانوں کا وجود ثابت ہو گیا تو یہ اعتراض بھی باقی نہ رہا۔باقی رہے اس سے پہلے کے انسان توان پر یہ اعتراض نہیں پڑ سکتا کیونکہ وہ اوّل تو کامل العقل اور حامل شریعت ہی نہ تھے۔دوسرے ان کی نسبت بھی یہ ثابت نہیں کہ وہ ایک ہی بشر سے پیدا ہوئے تھے بلکہ ممکن ہے کہ وہ بھی ایک ہی وقت میں کئی مرد اور کئی عورتیں پیدا کئے گئے ہوں۔انسان صفاتِ الٰہیہ کا ظِلّی حامل اسی آیت سے یہ امر بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان صفات الٰہیہ کاظلّی طور پر حامل ہے کیونکہ اس آیت میں آدم کو