تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 437

جواب۔فرمایا:۔’’ہم اس بات کے قائل نہیں ہیں اور نہ ہی اس مسئلہ میں ہم تو ریت کی پیروی کرتے ہیں کہ چھ سات ہزار سال سے ہی جب سے یہ آدم پیداہوا تھا اس دنیا کا آغاز ہوا ہے اور اس سے پہلے کچھ نہ تھا۔اور خدا گویا معطل تھا۔اور نہ ہی ہم اس بات کے مدعی ہیں کہ یہ تمام نسلِ انسانی جو اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ہے یہ اس آخری آدم کی نسل ہے۔ہم تو اس آدم سے پہلے بھی نسل انسانی کے قائل ہیں جیسا کہ قرآن شریف کے الفاظ سے پتہ لگتا ہے۔خدا نے یہ فرمایا کہ اِنِّيْ جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِيْفَةً (البقرۃ :۳۱)خلیفہ کہتے ہیں جانشین کو۔اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ آدم سے پہلے بھی مخلوق موجود تھی پس امریکہ اور آسٹریلیا وغیرہ کے لوگوں کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس آخری آدم کی اولاد میں سے ہیں یا کہ کسی دوسرے آدم کی اولاد میں سے ہیں۔(الحکم ۳۰ مئی ۱۹۰۸ء صفحہ ۵ کالم نمبر۲،۳) انسانی وجود کی ابتدا پر روشنی ڈالنے والا حضرت محی الدّین ابن عربی کا ایک کشف اس بارہ میں امتِ اسلامیہ کے گزشتہ اہم ترین صاحبِ کشف لوگوں میں سے ایک حضرت محی الدین صاحب ابنِ عربی اپنے ایک عجیب کشف کا ذکر اپنی کتاب فتوحاتِ مکّیّہ میں فرماتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ میں نے رئویا میں دیکھا کہ میں خانہ کعبہ کاطواف کر رہا ہوںاس وقت کچھ اور لوگ بھی طواف کر رہے تھے اور یہ شعر پڑھتے جاتے تھے ؎ لَقَدْ طُفْنَا کَمَا طُفْتُمْ سِنِیْنَا بِھٰذَا الْبَیْتِ طُرًّا اَجْمَعِیْنَا یعنی ہم سب نے بھی اسی طرح اس گھر کا سالوں طواف کیا ہے جس طرح تم نے اس گھر کا طواف کیاہے۔اس پر وہ کہتے ہیں مَیں نے اُن لوگوں میں سے ایک شخص سے بات کی اس نے جواب میں کہا کہ کیا تم مجھ کو نہیں پہچانتے میں تمہارے پہلے دادوں میں سے ایک ہوں۔فرماتے ہیں میں نے اس سے پوچھا آپ کو کتنا عرصہ گزرا ہے۔اس نے جواب دیا چالیس ہزار سال سے زیادہ گزرے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اس پر میں نے کہا کہ اتنا عرصہ تو آدم پر نہیں گزرا اس کے جواب میں اس شخص نے جواب دیا کہ تم کون سے آدم کے متعلق سوال کرتے ہو جو سب سے زیادہ تم سے قریب ہے یا کسی اور کے متعلق۔اس جواب کو سن کر وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث یاد آ گئی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ آدم پیدا کئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اس پر میں نے اپنے دل میں کہا کہ وہ جَدِّ اکبر جس نے مجھے اپنی طرف منسوب کیا ہے ان میں سے ایک ہوں گے۔(فتوحات مکیة الفصل الخامس، الباب تسعون و ثلٰث مائۃ،فی معرفة المنازلات) اس کشف سے معلوم ہوتا ہے کہ ملہم آدم جس کی طرف اس زمانہ کے لوگ منسوب ہوتے ہیں پہلا آدم نہیں بلکہ