تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 435

ہے اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ (الروم :۵۵) اللہ ہی ہے جس نے تم کو ضعف سے پیدا کیا ہے اس آیت کا بھی یہ مطلب نہیں کہ ضعف کوئی مادہ ہے جس سے <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کو پیدا کیاگیا ہے۔بلکہ اس سے مراد صرف یہ ہے کہ <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کی طبیعت میں کمزوری ہے۔وہ خود اپنے لئے <mark>ہدایت</mark> کا راستہ تیار نہیں کر سکتا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے <mark>ہدایت</mark> آنے کا محتاج ہے۔<mark>ان</mark> محاوروں کے رو سے جنوّں کے اور ابلیس کے نَار سے پیدا کرنے کے یہ معنے ہیں کہ <mark>ان</mark> کی طبیعت ناری تھی یعنی جب تک <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> میں تمد ّن کی حکومت قبول کرنے کا ملکہ پیدا نہ ہوا تھا وہ ناَری مزاج کا تھا اور اس کے لئے <mark>دوسرے</mark> کی اطاعت قبول کرنا آس<mark>ان</mark> نہ تھا مگر جب وہ ترقی کرتے کرتے طینی جوہر کو جو اس کا اصل تھا پا گیا تو اس میں اطاعت کے قبول کرنے کا مادہ پیدا ہو گیا اور ابلیس کے مقاَل کا صرف یہ مطلب ہے کہ آدم تو غلام ذہنیت رکھتا ہے کہ <mark>دوسرے</mark> کی اطاعت کر سکتا ہے مگر میں ناری مزاج ہوں اور <mark>دوسرے</mark> کی اطاعت نہیں کر سکتا۔پس میں اس سے اچھا ہوں اور یہ دعویٰ ابلیس اور اس کے ساتھیوں کا طبعی دعویٰ تھا۔وہ اپنی خیالی حرّیت کو اطاعت سے بہتر خیال کرتے تھے اور ایک نظام کے ماتحت چلنے کو عیب خیال کرتے تھے۔آج بھی جو لوگ ابلیس کے اَظلاَل ہیں اسی غلطی میں مبتلا ہیں کہ کسی <mark>دوسرے</mark> <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کی اطاعت کرنا گویا اپنے نفسوں کو ذلیل کرنا ہے۔<mark>ان</mark>ار کسٹ رجح<mark>ان</mark>ات کے لوگ اسی قسم میں شامل ہیں۔قرآن کریم میں اس ناَری طبیعت کا محاورہ ایک اور جگہ بھی استعمال ہوا ہے فرماتا ہے کہ تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ(اللھب:۲) یعنی شعلہ کے باپ کے دونوں ہاتھ برباد ہو گئے اور وہ خود بھی برباد ہو گیا۔اس آیت میں ابو لہب یعنی شعلوں کا باپ کسی کا نام نہیں بلکہ ایک مخالفِ اسلام کی صفت بتائی ہے اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے ہاں آگ پیدا ہوتی تھی بلکہ صرف یہ مراد ہے کہ اس کی طبیعت ناری تھی اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ُبغض اور حسد سے جلتا رہتا تھااور آپؐ کی مخالفت میں آگ بنا رہتا تھا۔اوپر کی آیات میں جو یہ ذکر آیا ہے کہ صَلْصَال سے پیدا ہونے والے <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark>وں سے پہلے دنیا میں جن بستے تھے اس کی تشریح متعلقہ آیات کے ماتحت آئے گی۔(کسی قدر اس کا ذکر سورہ حجر کے آیت نمبر ۲۷ میں بھی آیا ہے) جو کچھ قرآن کریم کی آیات زیر تفسیر اور دوسری آیات کی روشنی میں اوپر لکھا جا چکا ہے اس سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق (۱) <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کی پیدائش یکدم نہیں ہوئی بلکہ باریک در باریک ذرّات کی صورت نے ترقی کر کے اور مختلف احوال میں سے گزر کر <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark>ی شکل اختیا رکی ہے۔(۲) <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> شروع سے ہی بطور <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> پیدا کیا گیا ہے اور وہ فلاسفروں کے خیال کے مطابق ج<mark>ان</mark>وروں کے ارتقاء کا اتفاقی نتیجہ نہیں ہے (۳) سب سے پہلا