تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 423

ایک اور زندگی حاصل کرے گا جس میں اسے اپنے اعمال کا حساب دینا ہو گا۔انسانی پیدائش کئی دوروں میں ہوئی خلاصہ یہ کہ اس آیت سے ظاہر ہے کہ انسان کی پیدائش قرآن کریم کے رو سے فوری اور ایک وقت میں نہیں ہوئی بلکہ جس وقت سے کہ کائنات کی پیدائش کا اللہ تعالیٰ نے انتظام کیا اسی وقت سے اس نے انسان کی پیدائش کی بنیاد رکھی اور مختلف اوقات میں ترقی دیتے دیتے زمین سے نکال کر اُسے بڑھایا اور انسانی شکل اُسے دی اور شعور اور عقل اُسے بخشی۔اس حالت سے بھی پہلے کی ایک حالت قرآن کریم نے بیان کی ہے جو یہ ہے کہ انسان یا اس کے ابتدائی ذرّات کا بھی کوئی وجود نہ تھا چنانچہ فرماتا ہے اَوَ لَا يَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ يَكُ شَيْـًٔا (مریم :۶۸) یعنی کیا انسان اس بات کا خیال نہیں کرتا کہ ہم نے اس کی حیاتی شکل سے پہلے جو وجود اسے دیا تھا وہ اس حالت میں بنا تھا کہ اس سے پہلے اس کا کوئی اور کسی رنگ میں بھی وجود نہ تھا یعنی وہ ذرّۂِ حیات بھی موجود نہ تھا جس نے ترقی کرتے کرتے آخر انسانی شکل اختیار کی۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک اللہ تعالیٰ صرف مادہ کا جوڑنے والا ہی نہیں بلکہ مادہ کا پیدا کرنے والا بھی ہے اور ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جبکہ کوئی مادہ موجود نہ تھا پھر اللہ تعالیٰ نے مادہ پیدا کیا جو سورہ نوح کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق ترقی کرتے کرتے انسان بنا۔انسانی پیدائش کے مذکورہ ادوار تائید قرآن کریم کی دیگر آیات سے وہ اَدوار جو سورۂ نوح میں بیان کئے گئے ہیں ان کی مزید تشریح قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیات سے ہوتی ہے (۱) فرماتا ہے وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ (فاطر:۱۲) اللہ تعالیٰ نے تم کو خشک مٹی سے پیدا کیا ہے یعنی ایک وقت انسان پر ایسا آیا ہے کہ اس کا ذرہ حیات خشک مٹی میں ملا ہوا تھا۔(۲) اَلَّذِيْٓ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ(السجدة :۸) وہ خدا ہی ہے جس نے ہر چیز جو اس نے بنائی ہے اس میں اس کی ضرورت کے مطابق نہایت اچھی طاقتیں رکھی ہیں اور انسانی پیدائش کی ابتداء پانی ملی ہوئی مٹی سے کی ہے یعنی خشک مٹی جس میں ذرّۂِ حیات تھا اس میں اُس نے پانی ملایا اور ذرّۂِ حیات کے نشوونما کے سامان پیدا کئے قرآن کریم سے ظاہر ہے کہ ذرّۂِ حیات کے نشوونما کا زمانہ وہ ہے جب مٹی میں پانی ملا۔چنانچہ فرماتا ہے وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ١ؕ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ (الانبیاء :۳۱) ہم نے ہر چیز کو پانی سے زندگی بخشی ہے پھر کیا وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اس آیت سے ظاہر ہے کہ حیات یعنی زندگی اور اس کے نشوونما کا تعلق پانی سے ہے پس جب ُتراب کے بعد طین سے انسانی پیدائش کا ذکر کیا تواس طرف اشارہ کیا کہ ذرّۂِ حیات کی نشوونما کا زمانہ اس وقت سے شروع ہوتا ہے جبکہ پانی مٹی سے ملا اور اس میں نشوونما کی طاقت پیدا ہوئی اس امر کا