تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 420

شِو پُر ان میں لکھا ہے ’’برہما بولے دلو ںمیں محیط شنکر سے تحریک پا کر میں نے اپنے آپ کو دو حصوں میں تقسیم کیا اے ُمنی میں دو رُوپوں والا ہو گیا پس آدھے سے عورت اور آدھے سے مرد ہو گیا۔اس مرد سے عورت میں تمام صفتوں سے متصف جوڑے کو پیدا کیا اس میں ُپرش تو پَرَوْپکاری (بہی خواہِ خلائق) سُوَیمبْھَوَمنوُ پیدا ہوا اور وہ عورت َتپسیاّ اور ریاضت کرنے والی شَتْ رُوپا نام کی پیدا ہوئی پھر وہ ُسندری َمنوُ سے بیاہی گئی اور َمنوُ اور َشتْ رُوپا کے اختلاط سے انسانی نسل چلی‘‘۔( ِشوْ پرُان ردّر سنتہا نمبر ۲ سرننٹی کھنڈ نمبر ۱ اد ھیائے ۱۶) ان بیانات کی تفصیلات کو نظر انداز کر دیا جائے تو ان سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ ہندو مذہب کے نزدیک شروع میں ایک جوڑا پیدا کیا گیا تھا جو بعض کے نزدیک ایشور کے دو ٹکڑے ہو کر بنا اور بعض کے نزدیک برہما کے دو ٹکڑے ہونے سے بنا اور پھر آگے اس سے انسانی نسل چلی۔میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ یہ حوالے استعاروں سے ُپر ہیں اور ان میں انسانی پیدائش کے متعلق بعض امور کو استعارہ کی زبان میں بیان کیا گیا ہے اور ممکن ہے بعض بعد کے مصنفین نے ابتدائی الہام کو صحیح نہ سمجھ کر اس میں بعض باتیں اپنی عقل سے بھی داخل کر دی ہوں مگر اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ویدوں اور اُپنشدوں کے بیانات میں ایک مطابقت ضرور پائی جاتی ہے میں ان کے بیانات پر معترضانہ نظر نہیں ڈالنا چاہتا کیونکہ تفسیر قرآنی اس کا مقام نہیں مَیں اس جگہ صرف یہ بتانا چاہتا ہو ںکہ مختلف معتبر ہندو کتب میں یہ امر متفق طو رپر پایا جاتا ہے کہ بشر کی نسل ایک جوڑے سے چلی جسے خدا تعالیٰ کے وجود سے یا دیوتائوں کے وجود سے ہستی میں لایا گیا۔بابلیوں کے نزدیک ابتدائے نسلِ انسانی قدیم مذاہب میں بھی جو تاریخی زمانہ سے پہلے کے ہیں جیسے بابلی مذہب ہے ایسی روایات پائی جاتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان دیوتائوں سے پیدا ہوا ہے مثلاً بابلی مذہب کی تحقیق سے یہ امر معلوم ہوا ہے کہ بابل کے باشندوں میں یہ خیال پایا جاتا تھا کہ انسان دیوتائوں سے بنا ہے بابل کے قدیم آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ بابلیوں کے نزدیک ابتدا میں صرف دو خدا تھے ایک اَپسوُ دوسرا ِتھیامۃ۔اَپسوُ میٹھے پانیوںکا دیوتا تھا اور ا ِ تھیامۃ شوُرِیلے پانیوں کی دیوی تھی ان شوریلے پانیو ںکے ملنے سے آسمان و زمین کے دیوتا پیدا ہوئے جنہوں نے اَپسو اور تھیامہ سے بغاوت کی اور ایک منظم دنیا کے پیداکرنے کا ارادہ کیا اس جنگ میں ای آ اور آسمان کا خدا آنو شکست کھا کر بھاگے مگر ای آکالڑ کا مر دُوک ِتھیامۃکے خاوند ِکنگو سے لڑنے گیا جو ِتھیامۃ کے لشکروں کا سردار تھا اور اس کے بعد خود تھیامۃ سے لڑا آخر اُس نے سب ظلمت کے دیوتائوں کو شکست دی اور ان کو ستاروں سے باندھ دیا۔ِتھیامۃ کے جسم کو اس نے دو حصوں میں تقسیم کر کے آدھے سے آسمان بنائے اور دوسرے