تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 36

تفسیر۔آیت کے یہ معنی ہوئے کہ اللہ تعالیٰ جزا سزا کے وقت کا مالک ہے۔شریعت کے وقت کامالک ہے۔فیصلہ کے وقت کا مالک ہے۔مذہب کے زمانہ کا مالک ہے۔نیکی کے زمانہ کا مالک ہے۔گناہ کے زمانہ کا مالک ہے۔محاسبہ کے وقت کا مالک ہے۔اطاعت کے وقت کا مالک ہے۔غلبہ کے وقت کا مالک ہے۔خاص اور اہم حالتوں کا مالک ہے۔عام طور پر تو اس کے معنی قیامت کے دن کا مالک کئے جاتے ہیں لیکن جیسا کہ ُلغت سے ظاہر ہے۔یہ معنی محض تفسیری ہیں لغوی نہیں۔دین کے ایک معنی جزا سزا کے ہیں۔اور جزا سزا کاکامل مظاہرہ چونکہ قیامت کے دن ہو گا اس لئے مفسرین نے جزا سزا کے معنوں کی بنیاد پر اس آیت کے یہ معنی کر دیئے کہ قیامت کے دن کا مالک ہے۔حالانکہ لُغت کے رو سے اس آیت کے مختلف معنی ہوتے ہیں اور سب کے سب قرآنی مطالب کے مطابق اور درست ہیں۔پس کوئی وجہ نہیں کہ ایک معنوں کو تو لے لیا جاوے اور دوسروں کو چھوڑ دیا جائے۔آیت مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ کے پانچ معنے جیسا کہ بتایا جا چکا ہے۔مفسرّین اس کے یہ معنی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جزا سزا کے وقت کا مالک ہے۔ان معنوں کے رو سے ایک تو اس آیت کی یہ تشریح ہو گی کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک ہے۔یعنی اس دن جزا سزا میں کسی اور کا دخل نہ ہو گا بلکہ جزا سزا صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے گی۔اس طرح اس دُنیا اور اگلے جہان کے نتائج میں فرق بتایا ہے کہ اس دُنیا میں تو اچھے برُے افعال کی جزا سزا انسانوں کے ذریعہ سے بھی ملتی ہے اور اس میں لوگوں سے غلطی بھی ہو جاتی ہے مگر قیامت کے دن صرف اللہ تعالیٰ ہی جزا سزا دے گا اور یہ ناممکن ہو گا کہ کسی پر ظلم ہو اور اسے بے گناہ سزا مل جائے یا جُرم سے زیادہ سزا مل جائے۔نیز مجرم کے لئے بھی ناممکن ہو گا کہ جھوٹ فریب سے کام لے کر سزا سے محفوظ ہو جائے۔مَالِک اور مَلِک میں فرق نیز اس میں اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جزا سزا کے وقت صرف بطور مَلِک نہیں کام کرے گا بلکہ بطور مَالِک کام کرے گا۔مَلِک یعنی بادشاہ جب فیصلہ کرتا ہے تو اس کا کام صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ انصاف کیا ہے؟ کیونکہ جن امور کا فیصلہ وہ کرتا ہے وہ مدعی اور مدعا علیہ کے حقوق کے ساتھ متعلق ہوتے ہیں۔اس لئے اسے یہ اختیار حاصل نہیں ہوتا کہ وہ کسی کو معاف کر دے لیکن اللہ تعالیٰ چونکہ بادشاہ ہی نہیں بلکہ مَالِک بھی ہے اس لئے اُسے حق حاصل ہے کہ وہ اپنے حق میں سے جس قدر چاہے معاف کر دے۔اس مضمون سے ایک طرف تو امید کا ایک اہم پہلو پیدا کر دیا گیا ہے او رمایوسی سے انسان کو بچا لیا گیا ہے۔دوسری طرف انسان کو ہوشیار بھی کر دیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے رحم سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کا خیال دل میں نہ لانا کیونکہ مالک